اس شرط پہ کھیلوں کی پیا پیار کی بازی......جیتوں تو تجھے پاؤں‘ ہاروں تو پیا تیری

2017 ,جولائی 28



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): ہماری کتاب سیاست کا یہ نیا باب جب سے وا ہوا ہے۔ ایسی ایسی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔ کبھی بڑے بڑے شرفا کی دیار غیر میں ملازمتوں کی کہانی سامنے آتی ہے اور کبھی قیمتی تحائف کی۔ ویسے یہ تحائف کی کہانی بھی عجیب ہے۔ جو نجانے کہاں سے شروع ہو اور کہاں ختم۔ غریب آدمی‘ عام پاکستانی تو اپنے بچوں کو انکی چھوٹی موٹی کامیابیوں اور سالگرہ پر بھی ہر ایک معمولی سا تحفہ دینے سے قاصر نظر آتا ہے۔ مگر یہاں تو صورتحال ہی اور ہے۔ یہ امر اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے لوگ بڑے کمال کے نکلے جو اپنے ہی گھر والوں میں کروڑوں اور اربوں روپوں کے تحائف بانٹتے اور وصول کرتے پھرتے ہیں۔ یہ کون سے لوگ ہیں جو تحائف کا بھی کاروبار کرتے ہیں اور وہ بھی اندھا بانٹے ریوڑیاں والے محاورے کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق یعنی صرف اپنوں میں مٹھیاں بھر بھر کے۔ پہلے میاں صاحب کے اہلخانہ کے درمیان تحائف کا ذکر چلتا رہا۔ اب جہانگیر ترین کے بارے میں بھی پتہ چلا ہے کہ ان کے بھی اپنے بچوں کے درمیان 2 ارب 10 کروڑ کے تحائف کا تبادلہ ہوا۔ یہ تو

اس شرط پہ کھیلوں کی پیا پیار کی بازی

جیتوں تو تجھے پاؤں‘ ہاروں تو پیا تیری

یہ کیسا کھیل ہے جو باپ اور بچوں کے درمیان ہی کھیلا جاتا ہے۔ اسکے رولز کیا ہیں۔ کسی کو معلوم نہیں کیونکہ یہ امرا اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے دولت مند لوگ اپنے کھیل میں غیروں کو شریک نہیں کرتے۔ خود ہی اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ عوام کو تو اس کی ہوا تک نہیں لگتی۔ انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ جمخانہ‘ رائل پام اور اسلام آباد کلب کی رکنیت فیس کتنی ہے اور سالانہ فیس کتنی ہے۔ ایسے تحائف کا تبادلہ عام طور پر انہی کلبوں میں ہوتا ہے یا ایکڑوں پر پھیلے زرعی فارموں اور لگژری بنگلوں میں جہاں یہ تحفہ تحفہ کھیلا جاتا ہے…

متعلقہ خبریں