افغان شہری جس تھال میں کھاتے ہیں، اسی میں چھید کرتے نظر آتے ہیں

2017 ,جولائی 6



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): یہ وہ 7 لاکھ رجسٹرڈ افغان شہری ہیں جنہوں نے اپنی سادہ لوحی کے باعث یا واقعی اپنے وطن کی محبت میں خود کو مہاجرین کی فہرست میں شامل کرالیا۔ باقی جو 30 لاکھ کے قریب غیر رجسٹرڈ افغان مہاجر ملک کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کو کون کڑکی لگا کر پکڑے گا۔ وہ تو مزے کررہے ہیں اور یہ بے چارے سادہ لوح افغانی قانونی طور پر اپنی پاکستان میں موجودگی ظاہر کرکے سرخرو ہورہے ہیں۔ اس لئے حکومت نے بھی دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی واپسی کے لئے کوئی ڈیڈلائن مقرر نہیں کی۔ انہیں اجازت ہے کہ وہ جب چاہیں اپنے وطن جاسکتے ہیں آگے ان کی مرضی۔ آج نہیں تو کل ان 7 لاکھ قانونی مہاجرین کا جانا ٹھہرا۔ مگر وہ 30 لاکھ غیر قانونی مہاجرین جو دھوکے سے پاکستان کو مسائلستان بنائے ہوئے ہیں، ان کو بھیڑ بکریوں کی طرح ٹرالوں میں ٹھونس کر افغان بارڈر کے پرے کب پھینکا جائے گا۔ اصل مسئلہ تو یہی غیر رجسٹرڈ مہاجر ہیں جو اپنے آپ کو مہاجر بھی نہیں رجسٹر کراتے اور بڑے فخر سے خود کو پاکستانی نہیں افغانی بھی کہلواتے ہیں۔ یہی لوگ جس تھال میں کھاتے ہیں، اسی میں چھید کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کو سب سے پہلے تلاش کرکے ملک بدر کیا جائے۔ اس کے لئے بھی کسی ڈیڈ لائن کی ضرورت نہیں، جو ملے‘ جہاں ملے اور جب ملے اسے بارڈر کے پار دھکیل دیا جائے۔

متعلقہ خبریں