فلسطین میں رمضان کے دوران طلاق دینے پر پابندی

2017 ,مئی 30



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک):اس ماہ مقدس میں بحالت روزہ اس موسم گرما میں کچھ زیادہ ہی گرمی انسانی دماغ پر چڑھتی ہے کوئی بھی غلط فیصلہ یا غلط لفظ منہ سے نکل جاتا ہے۔ اس خوف سے ہی فلسطین کی مرکزی عدالت نے طلاق کی ڈگریاں جاری کرنے سے روک دیا ہے۔ اس طرح کم از کم روزہ دار کو علم ہو گا کہ اسے لڑنے جھگڑنے کا زیادہ فائدہ نہیں لہٰذا خاموشی سے موسم گرما کی شدت کے ساتھ ساتھ بیگم کی شدت پسندی پر بھی قناعت کرکے دوہرا اجر پا سکتے ہیں۔ ورنہ دیکھ لیں امریکہ میں ایک شہری نے ناراض بیوی کو واپس گھر لانے میں ناکامی کا غصہ اس طرح اتارا کہ 8 افراد کی جان لے لی۔ موصوف کو غصہ تھا کہ بیگم بچوں کو لے کر لڑ جھگڑ کر میکے جا کر کیوں بیٹھ گئی ہے۔ ایسا شاید امریکہ میں کم ہی ہوتا ہو گا مگر ہمارے ہاں تو ایسا ہر جگہ بلکہ اکثر جگہ ہوتا ہے۔ عام طور پر تو اکثر بیگم ناراض ہو کر میکے جا کر بیٹھتی ہے تو اکثر شوہر اس کی غیر موجودگی میں سکھ کا سانس لیتے ہیں۔ مگر میاں بیوی کی ایسی ناچاقی سینکڑوں افراد کی جان بھی لے چکی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہمارے ہاں ساس سسر سالے اور بیوی کو مارا جاتا ہے۔ یوں ایک گھر اجڑتے اجڑتے اپنے ساتھ نجانے کتنے اور گھر اجاڑ دیتا ہے۔ اب معلوم نہیں اس امریکی نے اصل وجہ تنازعہ بیگم اور سسرال کو چھوڑ کر آس پاس کے گھر والوں کو کیوں مار ڈالا ہے۔ یہ ہے ناں پاگلوں والی بات۔

متعلقہ خبریں