عائشہ گلالئی کے نزدیک پیپلز پارٹی گنگا نہائی ہے

2017 ,اگست 4



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): عمران خان اور تحریک انصاف کی خاتون رکن اسمبلی کے درمیان تنازعہ میں پارلیمانی خواتین کی تنظیم کا کس کی طرف سے ارکان پارلیمنٹ خواتین کے خلاف الزام تراشیوں اور انہیں ہراساں کرنے کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے عائشہ گلالئی کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ جبکہ جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی طرف سے عائشہ گلالئی کو باقاعدہ جماعت اسلامی میں شمولیت کی دعوت بھی دی گئی ہے۔ یہ تو ایک اچھی آفر ہے امید ہے وہ اس پر ضرور غور کریں گی۔ فی الحال تو عائشہ گلالئی نے پیپلز پارٹی کی طرف اپنے قلبی رجحان کا ذکر کیا ہے۔ ان کے بقول مسلم لیگ (ن) کرپٹ جماعت ہے۔ حالانکہ تحریک انصاف والے الزام لگا رہے ہیں کہ مسلم لیگ نے عمران خان کے خلاف الزام لگانے پر انہیں 5 کروڑ اور بعض دیگر کے بقول 50 کروڑ روپے دیئے ہیں۔ یہ تو الزام سے زیادہ لطیفہ ہی لگتا ہے۔ بہرحال اب عائشہ گلالئی کے نزدیک اگر پیپلز پارٹی گنگا نہائی ہے تو جی آیاں نوں انہیں دیر نہیں کرنی چاہئے۔ ان کی باتوں سے تو شک پڑتا ہے کہ کہیں انہیں پیپلز پارٹی والوں نے ہی تو تیار نہیں کیا تھا ایسا کرنے کیلئے جبھی تو ساری پیپلز پارٹی والے عمران خان کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اب انتخاب تو گلالئی نے ہی کرنا ہے کہ وہ کون سی جماعت جوائن کرتی ہیں۔

متعلقہ خبریں