قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں دو طلبہ گروپوں میں تصادم‘ 26 زخمی‘ متعدد گرفتار

2017 ,مئی 22



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): گوادر میں بلوچ انتہا پسند قوم پرستوں کی طرف سے سندھی مزدوروں کو قتل کرنے کے بعد سندھ اور بلوچستان میں گرما گرمی کی لہر اسلام آباد کے ٹھنڈے ماحول کو بھی گرما گئی۔ یہاں بلوچ اور سندھی طلبہ کی ایک بڑی تعداد قائداعظم یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہے۔ ان میں بھی اس مسئلہ کی وجہ سے تصادم ہو گیا درجنوں زخمی ہو گئے۔ سندھی اور بلوچ طلبہ نے ایک دوسرے پر جی بھر کر پتھر اور ڈنڈے برسائے۔ بلوچ انتہا پسند قوم پرستوں نے اس سے قبل بھی بلوچستان کے اندرونی علاقوں میں کام کرنے والے پنجابی مزدوروں اور محنت کشوں کو اسی طرح گولیوں کا نشانہ بنایا تھا۔ جس پر اہل پنجاب نے روایتی نرم دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زبانی کلامی احتجاج تو کیا مگر کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا۔ حالانکہ عوام کی طرف سے شدید احتجاج کا مطالبہ کیا جا رہا تھا کیونکہ وہ شدید مشتعل تھے بے گناہ مزدوروں کی لاشیں اٹھا اٹھا کر لیکن بڑا بھائی ہونے کے ناطے بہت کچھ برداشت کرنا پنجاب کے لئے لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔ مگر حکومت سندھ نے اپنے شہریوں کے مرنے پر سخت احتجاج کیا ہے اور نوجوان سندھی طلبہ نے بھی اسلامی یونیورسٹی میں بلوچ طلبہ کو نشانہ بناکر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ یہ بھائیوں کو لڑانے والوں کی وہ سازش ہے جو ہمارے گمراہ قوم پرست انتہا پسند نوجوانوں کو سمجھ نہیں آ رہی یا وہ جان بوجھ کر سمجھنا نہیں چاہتے۔ جب ہم کسی کو پتھر ماریں گے تو جواب میں وہ پھول نہیں پھینکیں گے۔ چاہے بلوچ مرے یا سندھی۔ پنجابی مرے یا پٹھان غموں کا پہاڑ تو پورے خاندان پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ دکھ اور تکلیف تو سب کو یکساں ہوتی ہے۔ اسلئے زندگی اجاڑنے سے کہیں بہتر ہے کہ زندگی بچائی جائے۔

متعلقہ خبریں