فوڈ اتھارٹی کا چھاپہ جانوروں کی چربی سے تیار کیا جانے والا 14 ہزار لیٹر کوکنگ آئل تلف، 2 افراد گرفتار

2017 ,مئی 22



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک):یہ تو صرف ایک فیکٹری سے برآمد ہونے والا مردار کوکنگ آئل تھا ورنہ ایسی نہ جانے کتنی فیکٹریاں لاہور میں لوگوں کو مسلسل زہر کھلا رہی ہیں۔ یقین نہ آئے تو ذرا یہ جو قدم قدم پرمرغیوں (برائیلر) کی دکانیں کھلی ہیں یا جائز و ناجائز مذبحہ خانے ہیں، ان کے ڈرم چیک کرلیں، روزانہ ہزاروں من آلائشیں اور چربی صرف ان سے ملتی ہے جو یہ انسان دشمن لوگ ٹرکوں میں بھر کر خرید لیتے ہیں اور یہ ساری مردار چربی اور آلائشیں ان مقامی فیکٹریوں میں کوکنگ آئل بنانے کے کام آتی ہیں۔ یہ سب کچھ سب کے سامنے ہورہاہے، کسی سے چھپا ہوا نہیں۔ یہی کوکنگ آئل جو درحقیقت زہر ہے، معروف برانڈ کے اور عام برانڈ کی پیکنگ میں بھرکر فروخت ہوتا ہے جو زیادہ تر دکاندار اور ہوٹل والے خریدتے ہیں جو یہ زہر عوام کے معدوں میں انڈیلتے ہیں۔ اب پنجاب فوڈ اتھارٹی نے کمر باندھ ہی لی ہے تو ایسے ہوٹلوں اور دکانوں پر جہاں یہ تیل بکتا ہے یا استعمال ہوتا ہے، مستقل پابندی لگاکر کروڑوں لوگوں کی زندگیاں بچانا ان کا فرض ہے۔ یہ لوگ باز آنے والے نہیں، انہیں سزائے موت اگر دیتے ہوئے عالمی برادری کا ڈر لگتا ہے، جیسے کل بھوشن کو دیتے ہوئے لگتا ہے تو کم از کم عمر قید کی سزا ضرور دی جائے۔

متعلقہ خبریں