ڈالر واپس اپنی اوقات پر آ گیا

2017 ,جولائی 8



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): ڈالر کے ریٹ میں ایک دم اضافہ کرنے کی سازش جس نے بھی کی اس نے ملکی خزانے اور معیشت کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ اس سے حساب لینا ضروری ہی نہیں ناگزیر ہے۔ اس سازش کی وجہ سے ڈالر نے یکدم ایسی چھلانگ لگائی کہ ہمارے ذمہ غیر ملکی قرضوں کے بوجھ میں ایک دم 230 ارب روپے کا اضافہ کر گیا جس سے ہماری کمر جو پہلے ہی غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دب کر دہری ہو رہی تھی ٹوٹنے کے قریب پہنچ گئی۔ کمانے والے اربوں روپے کما گئے۔ ڈوبنے والوں کے اربوں ڈوب گئے۔ ملکی معیشت کو دھچکا لگا۔ مگر کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی۔ پاکستانی روپے کی اتنی بے قدری اس سے پہلے کبھی دیکھی نہیں گئی سٹاک مارکیٹ بھی مارے شرم کے زمین میں دھنس گئی۔ لوگ حیران ہیں کہ ڈالر کی قیمت کا تعین حکومت خود کرتی ہے۔ تو پھر یہ کام غیر سرکاری دراندازوں نے اپنے ہاتھوں میں کیسے لے لیا۔

سٹیٹ بنک اور وزارت خزانہ کیا کر رہے تھے۔ اب جو تحقیقات ہوں گی تو سانپ نکل جانے کے بعد محض لکیر پیٹنے کے مترادف ہو گا۔ وزیر خزانہ کی ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی کے بعد ڈالر واپس اپنی اوقات پر آ چکا ہے۔ مگر ساتھ ہی آئی ایم ایف کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ ڈالر 116 روپے کا کیا جائے۔ اس طرح شاید آئی ایم ایف اے پورے پاکستان کو قرضوں کے بوجھ تلے مکمل طور پر دبانا چاہتا ہے تاکہ پاکستان آئی ایم ایف کے قرضوں کے بوجھ تلے سے آزاد نہ ہو سکے اور پاکستان کے عوام سسک سسک کر عالمی اداروں کی غلامی میں کسمپرسی کی زندگی بسر کرتے رہیں۔ کاش ہمارے حکمران ایک بار سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر زندہ اقوام والا رویہ اپنائیں اور غیر ملکی امداد کا جوا اپنے گلے سے اتار کر اپنے ہاتھ میں پکڑا کشکول سچ مچ توڑ دیں…

متعلقہ خبریں