پٹھان اور نسوار کا تو چولی دامن کا ساتھ

2017 ,جولائی 8



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): یہ تو ہمارے پٹھان بھائیوں کے لئے بہت بُری خبر ہے جو دبئی میں کام کر رہے ہیں۔ ان کی تو آدھی جان ہی نکل گئی ہو گی کہ اب اس آفت کی پڑیا کے لئے کہاں کہاں خوار ہونا پڑے گا۔ ویسے اب یہ نسوار صرف پٹھانوں کے ساتھ ہی نتھی نہیں رہی دیگر اقوام کے افرادبھی اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔ سگریٹ اب ایک مہنگا شوق بن گیا ہے۔ اس کی قیمت بڑھنے سے لوگ اب نسوار کی اہمیت سے آگاہ ہو رہے ہیں۔ رنگ برنگے برانڈ کے سگریٹوں کی طرح اب نسوار کے بھی مختلف برانڈ دستیاب ہیں۔ پہلے تو تیز مسالے والی اور سادہ مسالے والی نسوار کا رواج تھا۔ اب تو اس میں مختلف خوشبوؤں کے فلیور بھی دستیاب ہیں۔ ان کی پیکنگ بھی علیحدہ علیحدہ ہوتی ہے۔ زیادہ مہذب لوگ نہایت شان کے ساتھ ٹشو پیپر میں ایک چٹکی بھر نسوار لپیٹ کر ہونٹ کے پیچھے دبا لیتے ہیں۔ اب یہ اپنی مرضی سے سادہ نسوار استعمال کریں یا خوشبودار۔ یورپ اور عرب ممالک میں کھلے عام سڑکوں پر پان کی پیک تھوکنے اور سگریٹ پینے کی اجازت نہیں۔ ان سخت حالات میں سگریٹ اور پان کی لت میں مبتلا لوگوں کی پریشانی کا حل ان لوگوں نے بالآخر نسوار کی شکل میں ڈھونڈ لیا ہے۔ نہایت سکون سے چٹکی بھر یہ نشیلی نسوار منہ میں دبائی اور نشہ پورا کر لیا۔ دیار غیر میں کیا بنگالی کیا ہندی کیا مراٹھی کیا گجراتی کیا سندھی کیا پنجابی کیا بلوچ اور کیا پٹھان سب اس کی محبت میں رنگے نظر آتے ہیں۔ پٹھانوں سے تو اس کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ انہیں تو اگر جنت میں پتہ چلے کہ نسوار کی دکان دوزخ میں کھلی ہے تو یہ بے دھڑک خریداری کے لئے وہاں بھی پہنچ جائیں گے۔ اب دبئی کے جس ہوٹل والے نے کاروبار ہتھیلی پر رکھ کر اپنے ہوٹل میں یہ آفت کی پڑیا اس کے چاہنے والوں کو پیش کرنے کے لئے رکھی لگتا ہے وہ بھی کم بخت اس کا چاہنے والا ہو گا۔ ورنہ پتہ تو اسے بھی تھا کہ اس کا انجام کیا ہو گا۔ اب ہوٹل والا خدا جانے ریڑھی لگائے گا یا جیل کی ہوا کھائے گا…

متعلقہ خبریں