سیانوں نے اسی لئے کہا ہے کہ پہلے تولو پھر بولو

2017 ,اگست 3



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): سیانوں نے اسی لئے کہا ہے کہ پہلے تولو پھر بولو۔ یہ کوئی بے معنی بات نہیں ہزاروں سالوں کا تجربہ ہے جو دو لفظوں میں بیان کیا گیا ہے۔ اب بیٹھے بٹھائے آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے دل میں اپنے قائد کی برطرفی پر اٹھا درد ٹیس مارنے لگا تو ان کو اپنی زبان پر قابو نہیں رہا اور وہ کچھ کہہ دیا جو کہنا نہ تو ان کے عہدے کے شایان شان تھا نہ بحیثیت ایک پاکستانی و کشمیری کوئی اس کا سوچ بھی سکتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس میں وضاحت کرتے ہوئے جو رویہ اختیار کیا لب و لہجہ اپنایا وہ بھی ایک تو کریلا اوپر سے نیم چڑھا تھا۔ ایسا بیان تو بھارت میں بیٹھے کٹھ پتلی کشمیری وزیر بھی نہیں داغ سکتے جو ایک محب وطن پاکستانی جماعت کے اس وزیراعظم نے دیا ہے۔ اب جو موقع ملا تو پیپلز پارٹی کے راٹھور صاحب اور پی ٹی آئی کے بیرسٹر صاحب بھی خوب برسے۔ ان سب کا مطالبہ ہے کہ عوام یہ بات برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ اب فاروق صاحب کو وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہو جانا چاہئے۔ مگر فاروق جی ہیں کہ آکاس بیل کی طرح وزارت عظمیٰ کے درخت سے چمٹے ہوئے ہیں۔ اسے چھوڑنے کو تیار ہی نہیں۔ اسلئے اب عوامی سطح پر ان کے خلاف غیض و غضب بڑھ رہا ہے۔ مظفر آباد سمیت ملک کے دیگر شہروں میں ان کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ان کی مزید عزت افزائی ہو انہیں ازخود وزارت عظمیٰ سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہئے تاکہ ان کی حکومت کے خلاف مخالفین کو مزید کچھ کرنے کا موقع نہ ملے۔ ویسے بھی اب حد ہو گئی ہے…

متعلقہ خبریں