ایک سے بڑا ایک کردار ایک سے بڑی ایک کہانی۔

2017 ,جون 12



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): لیجئے اب اور سنئے۔ یہ ہماری کرکٹ بورڈ والوں کی داستان الف لیلیٰ جو کسی بھی طرف سے ختم ہونے کو نہیں آ رہی۔ ہر کردار ایک نئی کہانی سنا رہا ہوتا ہے…

کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائوں

ہزاروں ہی شکوے ہیں کیا کیا بتائوں

اس لنکا سے جو بھی نکلتا ہے باون گز کا ہوتا ہے۔ ایک سے بڑا ایک کردار ایک سے بڑی ایک کہانی۔ ان کہانیوں کے ہوتے ہوئے کرکٹ کہانی پر توجہ کون دے پائے گا۔ پی سی بی میں تو عہدوں کی مراعات کی ایک ایسی دوڑ لگی ہے جو تھمنے کا نام نہیں لیتی۔ ہر ایک خود کو ناگزیر سمجھتا ہے سوائے کھیل اور میرٹ کے۔ چنانچہ صاحبو! ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ باقی سب خوب پھل پھول رہے ہیں صرف کرکٹ کا کھیل اور کھلاڑیوں کے چنائو میں میرٹ کی پابندی فنا ہو رہی ہے۔ پی سی بی نہ ہوئی بہتی سونے کی گنگا ہو گئی جس میں سب حسب توفیق ڈبکیاں لگا رہے ہیں جس کے ہاتھ جو آ رہا ہے لے جا رہا ہے۔ اب یہ سپر لیگ کا جو ڈرامہ کھیلا ہے اس کی خوب واہ واہ ہوئی۔ سب نے نہ سہی اکثریت نے اس کی مدح میں قصیدے لکھے۔ اب لگتا ہے ہجو لکھنے کی باری آ رہی ہے۔ کیونکہ چڑیا والے بابا کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ موصوف نے کروڑوں کے انکم ٹیکس کا ریکارڈ جمع نہیں کرایا۔ وہ شاید کروانا بھی نہیں چاہتے ہوں گے۔ خدا پوچھے ان ایف بی آر والوں کو جو لٹھ لے کر چڑیا والے بابا کے پیچھے پڑ گئے اور 8 روز تک ریکارڈ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ اب یہ تو سراسر پریشانی والا کیس لگ رہا ہے۔ پی سی بی کے متوقع نئے چیئرمین کے لئے۔ ابھی انہوں نے چیئرمینی کا تاج سجایا نہیں تھا کہ زندان کا در کھلنے کا سین آ رہا ہے۔

…٭…٭…٭…٭…٭…

متعلقہ خبریں