بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں بھی سبحان اللہ

2017 ,جون 12



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک):اردو میں کہتے ہیں کٹورے پہ کٹورہ بیٹا باپ سے بھی گورا۔ یا ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ سو یہاں بھی یہی صورتحال نظر آ رہی ہے۔ بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں بھی سبحان اللہ نکلے۔ ابھی نئی نئی جوانی کیا آئی۔ کاروبار میں ہاتھ کیا ڈالا۔ ساتھ ہی کرپشن کی کہانیاں بھی در آئی ہیں۔ ٹرمپ صاحب تو مارے خوشی کے پھولے نہیں سما رہے ہوں گے کہ ان کا بیٹا اتنا قابل نکلا ہے۔ کیونکہ جو کام دنیا بھر میں عیب مانے جاتے ہیں ٹرمپ جی کے لئے وہ حسن کہلاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدارتی الیکشن سے لیکر صدر بننے تک ان کے مولا جٹ والے رول میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آئی۔ جہاں بھی جاتے ہیں آگ لگا کر چلے آتے ہیں۔ یورپی یونین والے ان سے بیزار، روس والے تنگ، چین کو وہ ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ بس بھارت ان پر دل و جان سے فدا ہے کیونکہ موصوف پاکستان کو بھی دھمکا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ اب انکی ہمت دیکھنی ہے کہ اپنے بیٹے کو وہ ان الزامات کے ساتھ قبول کرتے ہیں یا ان کے خلاف قانون کا ہونے والا تماشہ دیکھتے ہیں۔ امریکہ میں کم از کم انصاف کی حد تک تو عدالتیں آزاد ہیں۔ اب وہ عطیات کی رقم کاروبار میں استعمال کرنے کے الزامات میں صدر کے بیٹے کا مواخذہ کیسے کرتی ہیں پتہ چل جائے گا۔ ہمارے ہاں تو ایسی وارداتیں عام ہیں کہ ہمارے بڑے بڑے سیاستدان تاجر‘ صنعتکار یا بیوروکریٹ ہوں یا پھر این جی اوز والے سب عطیات سے کاروبار کرنے کی لت میں مبتلا ہیں اور خوب کماتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے ٹرمپ کے فرزند ارجمند نے بھی ان لوگوں کی راہ اپنانے کی کوشش کی ہے۔

متعلقہ خبریں