طلال چودھری کی پریشانی اور مولانا کا چہکنا

2017 ,جون 13



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ بھی سیاسی تنور میں روٹیاں لگانے لاہور پہنچ گئے ہیں۔ وہ اپنا خمیرہ آٹا کینیڈا سے خود تیار کروا کے ساتھ لاتے ہیں۔ بس پاکستان پہنچ کر اس آٹے کے پیڑے بنانے ہوتے ہیں پھر اس کے بعد چل سو چل۔ سیاسی تنور گرم ہو تو لائن خودبخود لگ جاتی ہے۔ جب تک روٹیاں لگانے کی باری آئے، مولانا صاحب سیاسی مجمع دیکھ کر جوش خطابت کا آغاز کرتے ہیں۔ مولانا کے پرجوش خطاب کو سننے لوگ بھی جمع ہوجاتے ہیں تو سیاسی تنور کے اندر اور باہر دونوں طرف گرما گرمی اور گہما گہمی لگ جاتی ہے۔ لگتا ہے اس بات سے طلال چودھری کو کچھ زیادہ ہی پریشانی ہے اور انہیں مولانا کا یوں چہکنا پسند نہیں۔ طلال چودھری کا بس چلے تو وہ پورے چمن میں غزل خواں حضرت کی زبان بندی کا حکم صادر کردیں۔ مگر ایسا ممکن نہیں کیونکہ بازار سیاست میں سب کو حق ہے کہ وہ اپنا مال فروخت کرے۔ خود طلال جی بھی یہی کر رہے ہیں تو دوسروں کو روکنا چہ معنی دارد۔

مولانا طاہرالقادری جس طرح حکومت‘ حکمرانوں اور اداروں پر برستے ہیں‘ اب تو جے آئی ٹی کو بھی نہیں چھوڑا۔ جس کوئی کام نہیں وہ جے آئی ٹی پر برسنے لگتا ہے۔ جو اب ”رضیہ“ بنی نظر آتی ہے۔

جے آئی ٹی پر مسلم لیگ (ن) تو باقاعدہ صف بند ہو کے لاﺅلشکر کے ساتھ چڑھائی کررہی ہے۔ کوئی وزیر اپنی وزارت پکی کرنے کیلئے اور کئی لیڈر بشمول طلال چودھری وزارت کا پھل چکھنے کیلئے پوری توانائیاں جوش بیانی پر صرف کررہے ہیں۔ مقصد سب کا ”مایا“ ہے حصول کا طریقہ کار ہر کسی کا اپنا اپنا ہے۔

مولانا طاہر القادری کا سالانہ دورہ زکوٰة جمع کرنے کے لئے ہو یا فنڈز جمع کرنے کے لئے، کسی نے کیا لینا دینا۔ ہاں اگر وہ حکمرانوں کیخلاف ہتھ ہولا رکھیں تو طلال جی کو بھی قرار آجائے گا۔ رہی بات عوام کی تو عوام روز روز کے ڈرامے دیکھتے ضرور ہیں مگر ووٹ اسے ہی دیتے ہیں جو ان کو آنے والے کل کا سنہری خواب دکھاتا ہے، ان کے مسائل حل کرنے کی نشاندہی کرتا ہے، وعدے کرتا ہے۔ عوام کو جذباتی تقریروں سے زیادہ دیر بہلایا نہیں جا سکتا۔

متعلقہ خبریں