دانی کا دان بٹے اور بھنڈاری کا پیٹ پھٹے

2017 ,جولائی 5



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): ہندی میں کہتے ہیں ’’دانی کا دان بٹے اور بھنڈاری کا پیٹ پھٹے‘‘ یعنی سخی کا لنگر بٹتا ہے اور بانٹنے والے کا پیٹ پھٹتا ہے کہ کیوں بٹ رہا ہے۔ یہی صورتحال اس شہری کو درپیش ہے جس نے عدالت میں کھلاڑیوں کو انعام دینے کیخلاف درخواست دائر کی ہے۔ ایسی ہی تکلیف کا اظہار شیخ رشید نے بھی گزشتہ روزایک پریس کانفرنس میں کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں سانحہ شرقپور میں مرنے والوں کے لواحقین کو بڑی بڑی رقمیں بانٹی گئیں جیسے ذاتی اکائونٹ میں سے دے رہے ہیں۔ شاید وہ اس امدادی رقم کو قومی سرمائے کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ بس عدالت میں اس لئے چیلنج نہیں کررہے ہیں کہ جانتے ہیں سیاست دانوں نے انہی عوام سے ہی ووٹ مانگنے جانا ہوتا ہے اس لئے ، انہیں ناراض کرنے کا رسک کون لے۔ جیسے انعامی رقم کو چیلنج کرنیوالے اس عمل کو خزانے کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ قومی ہیروز کو نوازنا پرانی روایت ہے۔ کھیل ہو یا جنگ، ان دونوں میدانوں میں کامیاب اور کامران ہونے والوں کو دور قدیم سے لے کر آج تک نوازا ہی جاتا ہے۔ کیونکہ یہ لوگ ہیرو کہلاتے ہیں۔ویسے یہ درخواست دائر کرنے والے سے پوچھا جائے کہ جناب آج تک آپ نے بھی اگر کوئی تیر چلایا ہوتا تو آپ بھی کسی انعام کے ہی حقدار ٹھہرتے۔ یہ دوسروں کو کچھ ملتا دیکھ کر اپنے خالی ہاتھ ملنے سے کچھ نہیں ہوتا، خوش ہوا کریں کہ قوم کا سر فخر سے بلند کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے، اس پر جلنے کڑھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

متعلقہ خبریں