بجلی کی پیداوار کا نیا ریکارڈ قائم‘ لوڈشیڈنگ پھر بھی نہ رک سکی۔

2017 ,جون 5



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): بے شک بجلی کی پیداوار 19248 میگاواٹ کی بلند ترین شرح پر پہنچ گئی ہے۔ اس پر خواجہ آصف بھنگڑے ڈالیں یا لڈی۔ چاپ کریں یا خٹک ڈانس ان کو حق ہے وہ حکومتی کارکردگی کا پھونپو خوب بجائیں۔ مگر رکشوں اور ٹرکوں کے پیچھے لکھا یہ شعر پورے ملک میں ان کا منہ چڑاتا نظر آئے گا کہ

حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے

خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے

آج بھی یہ تلخ حقیقت جون کے سورج کی طرح پورے ملک پر آگ برستی نظر آ رہی ہے کہ اتنی بجلی کی پیداوار کے باوجود لوڈشیڈنگ اسی شد و مد کے ساتھ جاری ہے۔ خواجہ آصف کے خوش دلانہ بیان کے باوجود دور دور تک عوام کو بجلی کی اس ریکارڈ پیداوار کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔ وہی ہر گھنٹے بعد بجلی جاتی ہے۔ ایک تو گرمی کا قہر عروج پر ہے۔ پورا ملک تندور بنا ہوا ہے۔ دوسری طرف لوڈشیڈنگ رہی سہی جان نکال رہی ہے۔ لوگ کسی بھی صورت حکومتی دعوے پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوائے وزرا‘ مشیروں یا ایلیٹ کلاس کے لوگوں کے جن کے گھروں میں بجلی کئی کئی فیزوں سے آتی ہے۔ بڑے بڑے جنریٹر لگے ہیں۔ انہیں تو پورے ملک میں بجلی کی سپلائی بند ہو تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ ان کی بجلی کبھی جاتی ہی نہیں۔ عوام تو تب خوش ہوں گے جب یہ محترمہ بجلی ان کی دسترس میں ہو گی۔

متعلقہ خبریں