تنگ آمد بجنگ آمد

2017 ,جولائی 5



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): شکر ہے عوام کو بھی بالآخر اپنی اہمیت کا احساس تو ہوگیا، لوگ اگر اپنی بے قدری اور بے توقیری پر چپ رہیں گے تو وی آئی پی موومنٹ کے دوران روکی گئی گاڑیوں کے اژدھام میں اسی طرح ایمبولینس میں پڑے مریض زندگی کی بازی ہارتے رہیں گے۔ رکشوں میں، گاڑیوں میں، چنگ چی میں نئی زندگیاں جنم لیتی رہیں گی۔ ماں باپ کی بانہوں میں بچے دم توڑتے رہیں گے۔ وی آئی پی موومنٹ پر جس طرح عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ کر دیر تک سڑکوں پر روکا جاتا ہے، سردی گرمی میں انکی تکالیف کا کسی کو احساس نہیں ہوتا، اب کراچی میں دو تلوار کے قریب عوامی شعور کی بیداری کا جو مظاہرہ دیکھنے میں آیا، یہ اس احساس اور دکھ درد کا ہلکا سا مظاہرہ ہے۔ اگر عوام مزید بیدار ہوگئے تو پھر کیا ہوگا۔ جن لوگوں کی خاطر یہ وی آئی پی موومنٹ ہوتی ہے، کیا وہ کوئی ماورائے انسان مخلوق ہیں‘ کیا خطرہ صرف انہی کی جان کو لاحق ہوتا ہے۔ یہی لوگ جب الیکشن میں گھر گھر دربدر ہوتے ہیں، ووٹ کی بھیک مانگتے ہیں، تب یہ وی آئی پی موومنٹ کہاں ہوتی ہے۔ انہیں اس وقت جان کا ڈر کیوں نہیں ہوتا۔ حکومت میں آکر اچانک یہ لوگ کیوں وی آئی پی بن جاتے ہیں۔ ان سے زیادہ اہم تو یہ سڑکوں پر اذیت سہنے والے لوگ ہیں جن کے ووٹوں سے اس جگہ تک پہنچتے ہیں۔ ابھی تو صرف ہارن بجے ہیں جو شور محشر کے مصداق ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ ایسا نہ ہو کہ تنگ آمد بجنگ آمد یہ پھول پھینکنے والے ہاتھ اس وی آئی پی موومنٹ پر پتھر پھینکتے نظر آنے لگیں، اس لئے مشتری ہوشیار باش۔

متعلقہ خبریں