سیاسی مچھلی بازار میں حکومت جا رہی ہے اور الیکشن آ رہا ہے

2017 ,جولائی 4



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): لو جناب سیاسی مچھلی بازار میں حکومت جا رہی ہے اور الیکشن آ رہا ہے کے شوروغوغا میں سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی آواز ناتواں بھی شامل ہو گئی جن کو پرویز مشرف‘ شیخ رشید اور جمشید دستی کی طرح تنہا پرواز کا شوق کچھ زیادہ ہی ہے۔ اسی شوق کی وجہ سے وہ ون مین پارٹی بنا کر اپنا شوق سیاست پورا کرتے نظر آتے ہیں۔ اب موصوف کو بھی اچانک شیخ رشید کی طرح حکومت کے جانے اور قبل از وقت الیکشن کے خواب آنے لگے ہیں۔ شیخ جی تو عمران خان کی تحریک کی چھتری تلے من مرضی کے انکشافات کرتے نظر آتے ہیں جس کے صلے میں انکی سنگل پارٹی کو بھی ایک عدد ٹکٹ مل جائیگا۔ مگر چودھری افتخار کیا کرینگے۔ کیونکہ انکے ساتھ تو فی الحال کوئی کھڑا نظر نہیں آتا۔ ق لیگ انہیں گھاس نہیں ڈالے گی کیونکہ ان کی وجہ سے اسکی حکومت گئی اور ان کے مہاراجہ پرویز مشرف کو رخصت ہونا پڑا۔ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ بھی وہ دشمنی مول لے چکے ہیں۔ تحریک انصاف والوں کے ساتھ شاید انکے ستارے نہیں ملتے۔ جماعت اسلامی والوں سے مزاج نہیں ملتا۔ اسلئے انہوں نے تنہا اپنے زور بازو پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ رہی ان کی پارٹی تو خدا جانے وہ کہاں پائی جاتی ہے اور اس میں کون کون شامل ہے۔ اب وہ اگر بقول خود الیکشن کے لئے تیار بھی ہیں تو امید ہے انہوں نے اپنے پارٹی کے رہنماؤں کو (اگر کوئی ہے تو) ٹکٹ بھی جاری کرنے کا پروگرام بنا لیا ہو گا۔ آخر الیکشن انہوں نے تنہا تو لڑنا نہیں پورے ملک میں امیدوار کھڑے کرنا ہونگے۔ اتنے امیدوار وہ لائیں گے کہاں سے۔ خرچ پانی برداشت کرنے کیلئے سپانسر کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر لگتا ہے کماؤ پت ارسلان افتخار کی موجودگی میں انہیں کسی سپانسر کی ضرورت محسوس نہیں ہو گی۔

متعلقہ خبریں