ریمنڈ ڈیوس کی بدقسمتی ہے کہ اس نے پاکستانی پولیس کے اصلی ہاتھ نہیں دیکھے

2017 ,جولائی 4



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): لو جی پھر کیا فائدہ ایسی قید کا‘ جیل میں ڈالنے کا۔ قید اور جیل کا اصل مزہ تو آتا ہی وہاں کی روایتی چھترول اور مار پیٹ میں ہے۔ ورنہ پھیکی چائے کس کام کی۔ اب یہ ریمنڈ ڈیوس کی بدقسمتی ہے کہ اس نے پاکستانی پولیس کے اصلی ہاتھ نہیں دیکھے۔ ورنہ انکی ساری شیخیاں اور شوخیاں دھری کی دھری رہ جاتیں اور وہ ایک ہی رات میں اپنا ملزم سے مجرم بننا قبول کر لیتے۔ یہ تو اس وقت کی حکومت کی مہربانی ہے کہ انہوں نے اسے غیر ملکی اپنے آقائے ولی نعمت کا بندہ سمجھ کر اس پر ہاتھ نہیں ڈالا۔ صرف دو وقت مرغی کا سالن کھلا کھلا کر اپنی مہمان نوازی کا ثبوت دیا جو ان صاحب کے لئے تشدد سے کم نہیں۔اگر انہیں باقی عام پاکستانی قیدیوں کی طرح ہفتوں بھوکا رکھنے کے بعد صرف پانی اور سوکھی روٹی کے ٹکڑے ہی دیئے جاتے تو یہ انہیں بھی ہاٹ برگر اور پیزا سے زیادہ قیمتی تصور کر کے چومتے اور دنیا کی سب سے بڑی نعمت سمجھ کر کھاتے۔ شکر ہے انہیں کھانے پینے کے علاوہ بستر چارپائی اور واش روم کی سہولت میسر رہی ورنہ آج ان کی کتاب میں ہماری جیلوں کے بارے میں جو خرافات پڑھنے کو ملتیں وہ تو ہم نقل بھی نہ کر سکتے اسلئے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں ہتھ ہولا رکھ کر ہماری اس وقت کی حکومت نے ہمارا سر شرم سے نیچا ہونے سے بچا لیا…

متعلقہ خبریں