اترپردیش میں مسلح لڑکی دولہا کو منڈپ سے اٹھا کر لے گئی

2017 ,مئی 20



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): کون کہتا ہے عشق صرف رونے دھونے کانام ہے۔ سچ کہیں تو یہ ہمت اور بہادری کا ہی کام لگتا ہے۔ ورنہ پوری دنیا سے لڑنے جھگڑنے کا حوصلہ کس میں ہوتا ہے۔ یہ جو لوگ رسموں اور رواجوں سے لڑ جاتے ہیں۔ کئی مجنوں، فرہاد رانجھے اور پنوں قسم کے لوگ جو اس جنگ میں جاں سے گزر جاتے ہیں وہ بزدل نہیں ہوتے۔ یہی حال ہیر، سسی شریں اور لیلیٰ کا بھی ہے۔ کیا وہ نہیں جانتی تھیں کہ ان کے اس سودائے عشق کا انجام کیا ہو گا۔ چچا غالب اسی لئے

’’کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا‘‘

کہتے رہے۔ اب بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں ایک بہادر محبوبہ نے اپنے بزدل محبوب کی شادی کی کوشش جس طرح اسے منڈپ سے اغواء کر کے ناکام بنائی وہ جدید کتاب محبت میں شاید آب زر سے لکھی جائے گی۔ آج تک عشاق نامراد اپنی جاں دے کر افسانہ عشق کا اختتام کرتے تھے۔ اسکے بعد شاید کتاب عشق میں لکھے جانے والے افسانوں کو نیا موڑ مل جائے۔ ورنہ آج تک رامائن پڑھنے والے یہی جانتے ہیں کہ شری رام جی سوئمبر میں سے جس طرح سیتا جی کو اٹھا کر لے گئے وہ بھی ہمت و بہادری کی داستان بن گئی اب ایسی ہی داستان اس نئے دور میں لکھی گئی ہے جہاں صرف کردار بدل گئے ہیں۔ساحر لدھیانوی ترقی پسند ہونے کے باوجود بھی…

تم میں ہمت ہے تو دنیا سے بغاوت کر لو

ورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کر لو

والی بات کرتے رہے آج اگر زندہ ہوتے تو انہیں ایسا کہنے کی ضرورت نہ پڑتی…

متعلقہ خبریں