کیا روشن خیالی دھمکیاں دینے اور جوتا مارنے کا نام ہے؟؟؟؟

2017 ,اگست 9



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): یہ تو خاصا خطرناک طرز عمل ہے جو کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکنوں میں نہیں ہونا چاہیے۔ گلالئی سے اختلاف ممکن ہے مگر اس طرح کسی خاتون کی توہین اس کو جوتا مارنے یا تیزاب پھینکنے کی دھمکیاںدینا کسی بھی مہذب سیاسی جماعت کے کارکنوں کا شیوہ نہیں ہونا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر ایسے بیانات اور پیغامات کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ اختلاف رائے برداشت نہیں کرتے۔ تحریک انصاف تو خود کو لبرل جماعت بتاتی ہے جو روشن خیال پڑھے لکھے لوگوں کی ترجمان ہے ۔ کیا روشن خیالی دھمکیاں دینے اور جوتا مارنے کا نام ہے۔ کل اگر کسی بھی سیاسی جماعت کی یا خود تحریک انصاف کی کوئی اور خاتون اختلاف رائے کا اظہار کرتی ہے۔کیا اسے بھی اسی طرح ڈرا دھمکا کر خاموش رہنے پر مجبور کیا جائے گا۔ خواتین پہلے ہی ہمارے نیم خواندہ معاشرے میں طرح طرح کے مصائب کا شکار ہے۔ خدا خدا کرکے انہیں آگے بڑھنے کا پڑھنے لکھنے کا موقع ملتا ہے اس پر بھی انہیں قدم قدم پر صنفی ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی اسکے خلاف بولے تو اسکی تذلیل کرنے کا حق کسی کو نہیں ہونا چاہیے۔ کاروکاری، وٹہ سٹہ، جائیداد کے تنازعہ، مردوںکی زیادتیوں اور غلطیوں کے بدلے میں آج بھی ہر جگہ عورتوں کو ونی کیا جاتا ہے قتل کیا جاتا ہے۔ کیا یہ عذاب کم ہے کہ اب سرعام انہیں جوتا مارنے تیزاب پھینکنے کی بات بھی کی جانے لگی ہے۔ امید ہے تحریک انصاف کے قائدین اس کا نوٹس لے کر اپنے کارکنوں کو ایسے پیغامات سے روک دیں گے۔

متعلقہ خبریں