اب اسے دال میں کالا کہیں یا کالے میں دال

2017 ,جولائی 25



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): اب اسے دال میں کالا کہیں یا کالے میں دال۔ یہ یکدم پتھر کی جگہ پھول دیکھ کر تو ’’بہارو پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے‘‘ والا نغمہ یاد آ جاتا ہے۔ مگر جب بلاول کی سنگباری دیکھتے ہیں تو حیرت کے ساتھ ’’بڑا شرمیلا دلبر ہے چلا جائے نہ شرما کر‘‘ والا مصرعہ یاد آ جاتا ہے۔ یہ عجب طرفہ تماشا ہے۔ ایک ہی پارٹی کے‘ جماعت کے یہ دو چہرے نہیں تو اور کیا ہیں۔ پارٹی کا سربراہ وزیراعظم سے استعفے کیلئے شور مچا رہا ہے اور گوگو کی ریلیاں (اگر انہیں ریلیاں کہنا مناسب سمجھا جائے تو) نکال رہا ہے۔ مگر اسی جماعت کا ایک بڑا رہنما سابق وزیراعظم حکومت کی مدت پوری کرنے کا مشورہ دے رہا ہے۔ ایسا تماشہ کچھ عرصہ قبل بھی دیکھنے میں آیا تھا جب نوآموز سیاستدان بلاول‘ میاں صاحب کی حکومت کیخلاف میدان سجانے کی تیاری کرنے لگے تو آزمودہ سیاستدان آصف زرداری نے فوراً انکی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور اڑنے سے پہلے ہی کبوتر کے پر کتر دیئے۔ اب ایک بار پھر ویسا ہی ماحول سامنے آ رہا ہے۔ اس بار زرداری صاحب بھی ذرا گرما گرم بیانات داغ رہے ہیں۔ ایسے گرما گرمی کے ماحول میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی آواز کہیں صدا باصحرا نہ ثابت ہو۔ اب چونکہ وہ خود وزارت عظمیٰ کا مزہ لوٹ چکے ہیں اسلئے ان سے زیادہ کرسی سے علیحدگی کا غم اور کون جان سکتا ہے۔ اس غم میں انکے علاوہ صرف انکی قائد بے نظیر بھٹو اور موجودہ وزیراعظم میاں نوازشریف بھی شامل ہیں جو اس درد کا مزہ اٹھا چکے ہیں۔ بہرحال اب معاملہ جو بھی ہو یوسف رضا گیلانی نے سیاستدان کے طور پرحالات کا تجزیہ کر کے ہی بیان دیا ہو گا۔ کھلاڑی سے زیادہ کھیل کے رولز کون جانتا ہے۔ مگر اس وقت نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنے۔ اس وقت تو جنگ کی نوبت بج رہی ہے۔ امن کا خواب کون دیکھے

متعلقہ خبریں