اپوزیشن کا احتجاج بھاری پڑ گیا، صدر ممنون حسین موڈیز کو مودی کہہ گئے

2017 ,جون 3



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): ویسے تو موڈیز اور مودی میں زیادہ فرق نہیں، موڈیز عالمی ریٹنگ ایجنسی ہے۔ اس کی ریٹنگ حکومتی مزاج کے برعکس آئے تو یہ بھی مودی ہی لگتی ہے۔ صدر صاحب نے جس ماحول میں خطاب کیا اس میں زبان کا صرف ایک مرتبہ ہی پھسلنا ان کے حوصلے کی مثال ہے۔ ورنہ تو گو نواز کے نعرے، ہلہ گلہ، شورشرابا اور دھماچوکڑی میں زبان کئی بار پھسل سکتی تھی، ہو سکتا ہے پھسل بھی گئی ہو مگر ہوہاکار میں رپورٹر صرف ایک بار ہی زبان کا غوطہ پکڑ سکا ہو۔ اس ماحول میں صدر تقریر کیا کر رہے تھے۔ اسے ’’مگروں لاہ‘‘ رہے تھے۔ ایوان میں تو کھڑاک ہو رہا تھا اور دیکھنے والے غیر ملکی سفیر بھی تھے۔ ان کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیا ہو گا کہ ہمارے ہاں جمہوریت ابھی نئی آئی ہے اور صدر تو مہمان اداکار ہیں۔ مہمان ہی ہوئے کہ سیاست سے کبھی تعلق نہیں رہا اور وہ جمہوریت کے اب روح رواں ہیں۔ ہمارے سیاستدان عجب مزاج رکھتے ہیں آمریت ہو تو جمہوریت کی بحالی کی تحریک چلاتے ہیں جمہوریت ہو تو آمریت کیلئے کوشاں ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے۔ انکے اندر قدرتی طور پر کوئی ایسا مادہ موجود ہے جو روح تک سرایت کر چکا ہے جو اندر ہی اندر مسلسل ان کو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے پر مجبور کرتا ہے۔ بات زبان پھسلنے سے شروع ہوئی تھی۔ عمران خان نے ایک بار جوش خطابت میں کہہ دیا تھا شیر پر مہر لگائیں۔ خیبر پی کے میں صابر شاہ ایک جلسے کے دوران گو نوازگو کے نعرے لگانے لگے تھے۔ زبان ہے ’’غریبنی‘‘ غوطہ کھا سکتی ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کے تو نظریات غوطہ اور عوام ان سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ پارٹی میں وہی مستقل ہے جو اس کا سربراہ ہے باقی کیلئے آنی جانیوں کے راستے کھلے رہتے ہیں۔ سیاستدان بھلے کسی پارٹی میں جائیں ان کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے صرف کچھ دل جلے لوٹا کہہ لیں گے۔ لوٹا بنیں مگر کھوٹا نہ بنیں۔ جمہوریت کو دوام، عوام کو آرام بخشیں، ان سے بس اتنی سی غرض بلاغرض ہے۔

متعلقہ خبریں