چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری

2017 ,جولائی 3



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): ارے ناں بابا ناں۔ خان صاحب یہ کیسی بات کر رہے ہیں آپ۔ سیاسی و عسکری تعاون کوئی آج کی بات نہیں یہ تو ہمیشہ سے چلتا آ رہا ہے۔ یہ عموماً باہمی رضامندی سے نہایت خوشگوار ماحول میں چلتا ہے جو خوش آئند تصور کیا جاتا ہے۔ عام طور پر جمہوریت کے بطن سے ہی عسکری آمریت وجود میں آتی ہے اور عسکری آمریت کے کوکھ سے جمہوریت جنم لیتی ہے۔ اس عمل کو یار دوست باری لینا بھی کہتے ہیں۔ اس انجمن ستائش باہمی کی بدولت ہی پاکستان میں جمہوری یا غیر جمہوری حکومتیں چلتی اور بدلتی رہتی ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب پڑھ کر کس کو شرم آئیگی۔ کون شرمندہ ہو گا۔ کیا ہمارے سارے سیاستدانوں کے حکمرانوں کے وردی والوں کیساتھ تعلقات کوئی ڈھکے چھپے ہیں۔ خود خان صاحب آپ بھی تو ایک دور میں سابق صدر مشرف کی زلفوں کے اسیر رہے ہیں۔ پھر اسکے بعد زیادہ دور کیوں جائیں آپکے دھرنوں کے دنوں میں بھی تو آپکی وردی والوں سے چاہت کے قصے زباں زدعام ہیں۔ وہ کہتے ہیں ناں …

چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری

سب کا اپنا اپنا غم ہے اپنی اپنی مجبوری

پھر یہ جو وردی والے امپائر کی انگلی کے اشارے کی آپ مدت سے آس لگائے بیٹھے ہیں۔ منتظر ہیں کیا وہ سیاسی و عسکری تعاون کی شرمناک نہیں تو کیا خوشگوار مثال ہے۔ پاکستانی عوام کو کسی کتاب کے پڑھنے کی ضرورت نہیں وہ اپنے ملک کے قابل احترام سیاسی و عسکری تعاون کی زندہ مثال عرصہ دراز سے بچشم خود ملاحظہ کرتے چلے آ رہے ہیں اور اس تعاون کے مزے بھی جمہوری اور آمرانہ دور میں ہمیشہ عوام ہی چکھتے آئے ہیں۔ لہٰذا آپ تو ایسی بات نہ کریں۔ آپ بھی تو اسی تعاون کے منتظر ہیں…

متعلقہ خبریں