لیجئے جناب تھا جس کا انتظار وہ شہکار آ گیا۔

2017 ,اگست 8



لاہور(مانیٹرنگ دیسک): طاہر القادری صاحب آج اپنے پروگرام کے مطابق اپنے وطن مالوف کینیڈا سے لاہور پہنچ گئے ہیں۔ حالانکہ ابھی ماصی قریب میں وہ پاکستان آئے تھے۔ حلقہ احباب سے ملاقات کے بعد بخیر و خوبی واپس گئے تھے۔ اب پھر موجودہ سیاسی بلوے میں اپنا حصہ ڈالنے یا لینے وہ آ چکے ہیں۔ ان کے چاہنے والوں اور ان کے پیرو کاروں نے آج بھی ان کا زبردست استقبالیہ پروگرام ترتیب دیا ہے۔ جس کے مطابق وہ ناصر باغ میں جلسہ سے خطاب کریں گے اور بعد ازاں داتا دربار حاضری دیں گے۔ اس وقت ملک میں جس طرح جلسے جلوسوں کا ماحول بن رہا ہے اس سے تو لگتا ہے جیسے الیکشن میلہ سج رہا ہے۔ اب ظاہر ہے ان کی آمد پر لاہور میں ان کے استقبالیہ جلوس کے راستے پر غیر اعلانیہ ہڑتال یا کرفیو کا ہی منظر ہوگا۔ کیونکہ تاجر ازخود ہجوم کی وجہ سے کاروباری مراکز حفاظتی طور پر بند رکھیں گے۔کچھ انتظامیہ بھی حفاظتی نکتہ نگاہ سے سڑکوں کو آس پاس سے بند کر کے خالی کرا دے گی۔ یوں ایئر پورٹ تا داتا دربار سڑکیں ویران اور بند ہونے سے عملاً لاہور دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ بہر حال اس سے کیا ہوتا ہے یہ تو اب لاہوریوں کی پریکٹس بن گئی ہے آئے روز کوئی نہ کوئی جماعت یا تنظیم چند درجن افراد لے کر مال روڈ پر تماشہ لگا کر ایسا کرتی رہتی ہے۔ اب پاکستان میں آمد کے بعد مولانا صاحب کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہےں۔ کہنے کو تو وہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن تحریک قصاص کا سیکنڈ پارٹ شروع کر رہے ہیں اب کہیں کوئی ان کو غیر ملکی شہری قرار دے کر ان کی پاکستان میں احتجاجی سیاست پر پابندی نہ لگوا دے۔ آج کل تو ویسے بھی قانون کا دور دورہ ہے عدالتیں سخت فیصلے دے رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں