طاقت اور ناطاقتی کا مقابلہ

2017 ,جولائی 3



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): امید ہے اب تک اس پولیس اہلکار کے ہوش ٹھکانے آ چکے ہونگے کہ اس نے کسی بااثر گاڑی والی کو روکا ہی کیوں تھا۔ کم از کم اور کچھ نہیں تو اسے عورت سمجھ کر اس پر ترس کھاتے ہوئے اسے جانے دیتے تو انکی یہ حالت نہ ہوتی۔ مگر چونکہ خاتون ڈرائیور کے ساتھ اسکے بیٹھے شوہر کو دیکھ کر پولیس اہلکار کو طیش آ گیا ہو کہ خانہ خراب خود آرام سے بیٹھا ہے اور عورت بے چاری سے گاڑی چلوا رہا ہے۔ یہی نیکی انکے گلے پڑ گئی ہے۔ خاتون کے شوہر نامدار نے باہر نکل کر پولیس والے کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا۔ اسکے بعد اپنے دوست صوبائی وزیر سے شکایت کر کے اس بے چارے کو کوارٹر گارڈ لگا دیا اور علاقے کے تھانہ ایس ایچ او کو لائن حاضر کروا دیا۔ یہ ہے طاقت اور ناطاقتی کا مقابلہ جس میں ہمیشہ طاقت ور ہی کامیاب رہتے ہیں۔ خدا خدا کر کے عمران خان نے خیبر پی کے میں پولیس کلچر بدلا وہاں تھانوں میں سائلین کی عزت ہونے لگی۔ عوام نے سکھ کا سانس لیا۔ مگر یہ وزیر مشیر اور سیاسی عہدیدار اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہے۔ صوبائی حکومت کم از کم اور کچھ نہیں تو اپنے وزرا کو ہی قابو کرے تاکہ پولیس میں آنیوالی تبدیلی کا خمار برقرار رہے۔ ورنہ پولیس والوں کو بگڑتے دیر نہیں لگتی۔

متعلقہ خبریں