گندے انڈوں کو عمران خان سمیت کوئی ٹکٹ نہیں دے گا

2017 ,جولائی 3



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): میٹھا میٹھا ہپ کڑوا کڑوا تھو والی بات ایسے ایسے ہی موقعوں پر کہی جاتی ہے۔ جب تک یہ انڈے زرداری صاحب کے پروں تلے تھے اس وقت یہ گندے نہیں تھے۔ اب جونہی یہ انڈے کسی دوسرے کے پروں تلے چلے گئے تو زرداری جی کو اچانک یہ الہام یا یہ انکشاف ہوا کہ یہ گندے تھے۔ اس کا تو مطلب ہے کہ جب تک غلط لوگ آپکے ساتھ ہیں وہ صاف ستھرے ہیں دوسرے کے ساتھ چلے جائیںتو خراب ہیں۔ اب یہ تو خان صاحب کا ظرف ہے کہ وہ ہر جماعت کے برے لوگوں کو اپنی پارٹی میں جمع کر رہے ہیں۔ کہیں اسی بات کا زرداری صاحب کو دکھ تو نہیں۔ انکے وہ لوگ جن کی الیکشن میں کامیابی کے امکانات ہیں آہستہ آہستہ تحریک انصاف میں جا رہے ہیں اور خان صاحب ان کو گلے لگا رہے ہیں۔ اب زرداری صاحب کے کہنے پر تو وہ انہیں ٹکٹ نہ دینے سے رہے۔ ویسے بھی وہ پارٹی کے معاملات اپنی مرضی سے چلاتے ہیں۔ انکے پاس جیتنے والے لیڈروں کی کمی تھی وہ اب پوری کر رہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو پیپلز پارٹی کسی فقیر کے کشکول کی طرح خالی نظر آتی لگ رہی ہے اسلئے زرداری جی نے اب اگر بلاول اور آصفہ کو پاکستان کا نیا قائد بنانا ہے تو انہیں ایک ہری بھری پارٹی کی ضرورت ہے جس میں الیکشن جیتنے والے گھوڑے موجود ہونے چاہئیں۔ ورنہ خالی کشکول کے ساتھ وہ اپنے فرزند اور دختر کو پاکستان کی حکومت نہیں البتہ لٹی پٹی پارٹی ضرور دینگے۔ ایک ایسی پارٹی جو شاید صرف صوبہ سندھ میں حکمرانی کو ہی اپنی معراج سمجھتی ہے۔ مضبوط کاندھوں کے بغیر کوئی جماعت کامیاب نہیں ہوتی۔ زرداری صاحب غور کریں کیا وجہ ہے کہ انکے مضبوط ساتھی بھی ان کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ کہیں یہ ہر عروج کو زوال والی بات تو نہیں۔

متعلقہ خبریں