وزیر اعظم کی غیر موجودگی، موقع غنیمت، لوٹ مار شروع

2017 ,اگست 1



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): وفاقی دارالحکومت میں نئے وزیراعظم کی آمد اور نئی کابینہ کی تشکیل کی درمیانی مدت میں بیوروکریسی نے بھی رنگ دکھانا شروع کر دیا اور وہ اہم نوعیت کی فائلوں کو نکالنے لگ گئی۔ وزیر داخلہ نہ ہونے کی وجہ سے اب انہیں اجازت بھی نہیں لینا پڑ رہی یوں ان کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے۔ خطرہ انہیں یہ ہے کہ نیا وزیراعظم نجانے کیا پالیسی اختیار کرے۔ عبوری وزیراعظم کی تو انہیں ٹینشن نہیں ہے مگر آنے والے وزیراعظم یعنی میاں شہباز شریف کی آمد کی صورت میں انہیں پریشانی ہو سکتی ہے کیونکہ ان کے ہاتھوں پنجاب بیوروکریسی کی پریشانی کی کہانیاں زبان زدعام ہیں۔ اب یہی کچھ مرکز کی بیوروکریسی کو اپنے ساتھ ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ یہ تو وہی انیس والی بات نظر آرہی ہے کہ…؎

کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے

رن ایک طرف چرخ کہن کانپ رہا ہے

اس لئے ملنے والے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے بیوروکریٹس جو ہاتھ آ رہا اسے نکال رہے ہیں تاکہ کچھ تو ان کے کاندھوں سے بوجھ کم ہو۔ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔ رہی بات تبادلوں کی تو وہ ذہنی طور پر اس کے لئے بھی خود کو تیار کر رہے ہوں گے کیونکہ پنجاب سپیڈ کے ساتھ کام کرنا مشکل تھا تو اب پاکستان سپیڈ کے ساتھ چلنا اور بھی مشکل ہو گا…

متعلقہ خبریں