سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی ختم کرانے پر تیار ہیں: دفتر خارجہ

2017 ,مئی 26



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): دفتر خارجہ کی اس سوچ پر تو صدقے واری جانا چاہیے کہ وہ ان ممالک کے مابین مصالحت کار بننا چاہتا ہے جو اس کو تین یا تیرہ میں شمار ہی نہیں کرتے۔ سعودی عرب میں تمام تر سعادت مندی کے باوجود ہمیں وہ عزت بھی حاصل نہیں ہوسکی جو یوگنڈا کے عیدی امین کو حاصل تھی۔ تو بھلا وہ ہمیں ثالث کیا مانیں گے۔ وہ تو ہمیں اپنے برابر کا نہیں سمجھتے۔ وہ تو خود کو ہمارا کفیل گردانتے ہیں۔ اس سے زیادہ ان کو ہم سے کوئی دلچسپی نہیں۔ رہی بات ایران کی تو وہ بھی اب ہم سے دامن چھڑا کر کب کا بت ہندی کا اسیر ہو کر اس کے دامن سے وابستہ ہو گیا ہے۔ اسے ہماری دوستی پر اعتماد نہیں رہا یہ تو....

دوست دوست نہ رہا

پیار پیار نہ رہا

زندگی ہمیں تیرا اعتبار نہ رہا

والی بات ہے۔ اس کے باوجود اگر ہم اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ان دونوں میں سے کوئی ہماری بات سنے گا تو محض خوش فہمی یا غلط فہمی ہے۔ اب کہیں ثالث بننے کے شوق میں ہم چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پسنے والی حالت میں نہ آ جائیں اس لئے چاہے ”یا شیخ“ ہو یا ”یا برادر“ ان دونوں کو اپنا مسئلہ خود ہی حل کرنے دیں جس طرح انہوں نے ہمیں اپنا مسئلہ کشمیر بھارت سے حل کرنے کے لئے ہمارے حال پر چھوڑا ہوا ہے۔ ہماری عزت اسی میں ہے کہ اپنی دستار محفوظ رکھیں۔ دوسروں کے پنگوں میں شامل ہونے کا انجام ہم کافی بھگت چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں