پنجاب بھر میں کلرکوں کی قلم چھوڑ ہڑتال اور مظاہرے

2017 ,مئی 26



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): یہ تو اب ایک روٹین کی کارروائی لگتی ہے کہ جب بھی بجٹ آتا ہے اس سے پہلے ہی ملک بھر میں کلرک اور دیگر دفتری سرکاری ملازمین اپنی تنخواہوں کے حوالے سے سینہ پیٹتے، روٹیاں گلے میں لٹکائے قمیضیں اتارکر ہائے ہائے کے نعرے لگاتے جلسے اور جلوس منعقد کرکے حکومت کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتے ہیں۔ کاش کبھی یہ اپنی سرکاری ڈیوٹیاں بھی اتنی ہی تندہی کے ساتھ ادا کریں تو عوام انہیں ہر وقت دعائیں دیتے اور ان کی دعاﺅں کے سبب ان کی تنخواہیں خود بخود بڑھتیں۔ مگر سرکاری ملازمین کا عوام کے ساتھ جو رویہ ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ اس لئے عوام کی بددعاﺅں کے اثر سے ان کی آہیں، مظاہرے اور شور شرابا اثر نہیں کر پا رہا۔ ہاں اگر وہ اب بھی عہد کر لیں کہ وہ عوام کے ساتھ اپنا رویہ درست کر لیں گے تو شاید ان کی نیک نیتی کے سبب اس بار ان کی آہیں اور مظاہرے رنگ لے آئیں اور حکومت ان کی تنخواہوں میں معقول حد تک اضافہ کر دے جس سے وہ خوش ہو جائیں۔ ویسے جو حکومت وزرائ، ممبران اسمبلی اور اعلیٰ افسران کی تنخواہوںمیں فراخ دلی سے اضافہ کرتی ہے اسے عام سرکاری ملازمین کی حالت زار کیوں نظر نہیں آتی جو بیچارے اس کم تنخواہ میں نجانے کس طرح بیوی، بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ تعلیم صحت اور رہائش کے اخراجات کا تو ذکر ہی عبث ہے کیونکہ یہ سب شامل کئے جائیں تو شاید حکمرانوں کی آنکھوں میں بھی آنسو آ جائیں ان غریبوں کی حالت زار دیکھ کر کہ یہ لوگ زندہ کس طرح ہیں۔ حکومت ان کے مطالبات پر نظر کرم کرتے ہوئے ان کی تنخواہوں میں معقول اضافہ کرے اور ان کی دعائیں لے۔

متعلقہ خبریں