بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

2017 ,جولائی 12



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): اہور کے دل مال روڈ پر گزشتہ روز ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہونے والی پولیس کی ان مشقوں میں عجیب صورتحال اس وقت دیکھنے کو ملی جب مال روڈ پر دو دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ڈولفن اور سی ٹی ڈی والوں کو دی گئی۔ طریقہ کار کے مطابق انہیں فوری ایکشن میں آنا چاہئے تھا مگر ”بہت دیر کی مہرباں آتے آتے“۔ ان دونوں فورسز کے جوان روایتی پولیس کے طریقہ کار کے مطابق گھنٹوں نہ سہی پھر بھی 20 منٹ کی تاخیر سے موقع واردات پر پہنچے۔ یوں ہنگامی حالت میں پولیس فورس کے کوئیک رسپانس کا پول کھل گیا۔

عوام کے لئے یہ زیادہ تاخیر نہیں کیونکہ ان کا تجربہ ہے کہ پولیس والے اطلاع ملنے کے بعد اطمینان سے گھنٹوں بعد موقع واردات پر پہنچنے کے عادی ہیں، مگر جن مہمانوں کے سامنے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی یہ مشقیں ہورہی تھیں، انکی حالت اس وقت کیا ہورہی ہوگی۔ 20 منٹ کا مطلب ہے دہشت گرد موقع واردات سے ہی نہیں، شہر کی حدود سے بھی باہر پہنچ سکتے ہیں یا پھر دھماکہ کی صورت میں حملے کی صورت میں ان 20 منٹوں میں درجنوں نہیں‘ سینکڑوں شہری جانوں سے ہاتھ دھوسکتے ہیں۔

اتنی رقم خرچ کرکے یہ سست الوجود کوئیک رسپانس فورس ہی بنانی تھی تو اس کا فائدہ ہی کیا۔ پہلے سے موجود ہزاروں کاہل پولیس اہلکاروں سے بھی کام چلایا جاسکتا تھا۔ اب خدا جانے سب کے سامنے اپنی برق رفتاری کا پول کھلنے کے بعد یہ ڈولفن اور سی ٹی ڈی والے اپنا غصہ عوام پر کس طرح نکالیں گے کیونکہ جرائم پیشہ افراد تو ان کے قابو آتے نہیں۔

متعلقہ خبریں