ہم لکھیں گے خط تمہیں گرچہ مطلب کچھ نہ ہو

2017 ,جولائی 24



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): عرصہ دراز ہوا جب سے موبائل فون آیا خط لکھنے لکھانے کا سلسلہ متروک ہو چکا۔ ورنہ کیا دن تھے جب لکھنے والے چھپ چھپ کر خط لکھتے تھے۔ حال دل بیان کرتے تھے۔ پڑھنے والے بھی چھپ چھپ کر خط پڑھتے تھے اسے سنبھال کر رکھتے تھے۔ اکثر کہا جاتا تھا

ہم لکھیں گے خط تمہیں گرچہ مطلب کچھ نہ ہو

ہم تو ہیں عاشق تمہارے نام کے

پھر اب یہ وقت آ گیا ہے کہ صرف موبائل فون پر ہی ہائے‘ ہیلو اور تھینکس کے میسج نے خطوط کا کاروبار تقریباً ٹھپ کر کے رکھ دیا ہے۔ کون خون سے خط لکھتا تھا‘ کون آنسو میں بھیگا خط بھیجتا تھا۔ سب لوگ فراموش کر چکے تھے۔ مگر خدا کا کرنا کچھ ایسا ہوا کہ پانامہ کیس میں ایک قطری شہزادے کے خط نے ایک بار پھر خطوط کی اہمیت واضح کر دی اور لوگوں کو خط یاد آ گئے۔ ابھی اس خط پر بحث و مباحثہ ختم ہوا تھا کہ عمران خان کے مقدمہ میں بھی ایک آسٹریلوی خط کا تذکرہ رنگ جما گیا۔ خط خط ہی ہوتا ہے قطری ہو یا آسٹریلوی مگر ان سیاستدانوں کے کیسوں نے ان کو بھی متنازعہ بنا دیا۔

اب ان خطوط میں جو عہد و پیماں چھپے ہوتے ہیں‘ وہ جب عیاں ہوتے ہیں تو پھر دنیا والے شگفتہ شگفتہ فسانے سننے میں مگن ہو جاتے ہیں۔ سچ کیا ہے‘ جھوٹ کیا ہے۔ یہ تو لکھنے والا جانے۔ اب خان صاحب بھی خط کے ذکرپر خاصے تپے ہوئے ہیں اور میڈیا پر غصہ نکال رہے ہیں۔ اب یہ قطری جانیں اور برطانوی کہ خط میں کیا لکھا‘ کیوں لکھا اور کیسے لکھے۔ خلقت شہر تو سننے کو فسانے مانگے....

متعلقہ خبریں