انسان تھا کوئی یا چھوت کا مریض تھا

2017 ,جولائی 31



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): پانامہ کیس فیصلے کے بعد مارے خوشی کے ایک مداح نے سرعام اپنے پر جوش سدا بہار رہنما شیخ رشید کو جو خوشی اور جوش میں نعرے لگاتے ہجوم کے درمیان جا رہے تھے کا جوش جذبات سے مغلوب ہو کر دونوں ہاتھوں سے منہ تھام کر بوسہ لیا۔ بس اس گستاخی کی دیر تھی کہ ہمارے عوامی رہنما شیخ رشید غصے سے لال بھبھوکا ہو گئے شاید اسی کو لال پیلا ہونا بھی کہتے ہیں۔ ایک ورکر کی اس جرا¿ت پر۔ پھر کیا تھا شیخ جی نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ دونوں ہاتھوں سے اپنے اس عوامی مداح کو دھکے دیکر اسے یوں دور کیا جیسے کوئی گندی چیز کو پرے پھینکتا ہے۔ پھر جو منہ میں آیا بولتے ہوئے اپنے اس مداح کی خوب عزت افزائی کی۔ بعد ازاں ہاتھ سے اپنا منہ یوں صاف کیا جیسے کوئی گند لگ گیا ہو۔ اب فی الحال شیخ جی کچھ بھی نہیں۔ صرف عوامی لیڈر ہیں جو بقول نثار علی خان کبھی ایک ٹرین میں کبھی دوسری ٹرین میں جا بیٹھتا ہے۔ اگر اب ان کا پبلک کے ساتھ یہ رویہ ہے تو اگر کبھی حکومت میں آ گئے تو کیا ہوگا۔ عوامی رہنما میں جو انداز دلبری ہونا چاہئے وہ تو کوئی مرحوم بھٹو سے سیکھے۔ خاندانی لینڈ لارڈ ہونے کے باوجود وزیر سے لے کر وزیر خارجہ بننے کے بعد بھی جب عوامی رہنما بنے تو حقیقت میں آستین الٹ کر گریباں چاک بٹن کھول کر ورکروں میں، عوام میں یوں گھل مل جاتے کہ من و تو کا فرق مٹ جاتا۔ مگر اب تو یہ تنہا ٹانگہ پارٹی کا اکلوتا لیڈر بھی عوام کی محبت برداشت نہیں کر رہا اور اپنے ورکر کو کسی چھوت کے مریض کی طرح اپنے سے دور دھکیل دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں