اجلاس میں وکلاء نے نواز شریف کے خلاف بھڑاس نکال دی

2017 ,جون 24



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): اجلاس میں وکلا نواز شریف کے خلاف بھڑاس نکال رہے تھے۔ وہاں سے گزرتے ہوئے نوجوان نے نواز شریف زندہ باد کے نعرے لگائے اور ہال سے نکل گیا۔ اس کی اس حرکت پر اسے لیگی رکن سمجھ لیا گیا اور پھر وکلا نے اسے وہ سزا دی جو چور کو دی جاتی ہے۔ اسے تعاقب کر کے پکڑا واپس ہال میں لائے اور مکوں تھپڑوں سے تواضع کی اور کئی القابات سے بھی نوازا۔

جس طرح وکیل حضرات نواز شریف سے محبت کے اظہار پر آپے سے باہر ہو گئے اسی طرح یہ بے چارہ ان کی نفرت کے اظہار پر اپنے جذبات قابو نہ رکھ سکا ہو گا۔ جیسے جلسوں میں، کھیل کے میدانوں میں اور جہاں جہاں اجتماعات ہوتے ہیں گو نواز گو نواز کا نعرہ بلند ہو جاتا ہے۔ ایسے نعرے لگانے والوں کی کبھی کبھی ہلکی پھلکی مالش ہو جاتی ہے مگر جو حال وکلا نے ایک نوجوان کا کیا ایسا کم کم ہی ہوتا ہے۔ باقی بار کے عہدے دار کا یہ کہنا قرین قیاس نظر نہیں آتا کہ اسے حکومت نے ماحول بگاڑنے کے لئے بھیجا۔ حکومت کو کیا اتنا بھی ادراک نہیں تھا کہ وکلا تو کلائنٹ‘ پولیس اور کبھی کبھی جج کو بھی نہیں بخشتے‘ ماحول بگاڑنے کے لئے جانے والے کا حلیہ کیوں نہ بگاڑ دیں گے۔

البتہ حکومت کو اگر ایک شہید درکار تھا تو یہ الگ بات ہے۔ بہرحال یہ نوجوان جس پر لیگی کارکن ہونے کا لیبل لگا ہے اگر وہ لیگی کارکن نہیں تو اب وہ نہ صرف لیگی کارکن کہلائے گا بلکہ لیڈر بھی بن جائے گا۔ ایسی اس کی اپنی پلاننگ بھی ہو سکتی ہے۔ مسلم لیگ ن کی طرف سے اس نوجوان سے لاتعلقی ظاہر نہیں کی گئی بلکہ اسے ہار پہنانے کی تیاریاں ہو رہی ہوں گی۔

پارٹی قائدین کے سامنے نمبر بنانے اور اعلیٰ سے اعلیٰ مقام پانے کے لئے لوگ بڑی پلاننگ اور بہت کچھ کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ پرویز الٰہی کی دعوت پر اس وقت کے وزیراعلیٰ نوازشریف گجرات گئے تو پرویز الٰہی کے اشارے پر کارکنوں نے میاں صاحب سمیت جیپ کندھوں پر اٹھا لی تھی اور آج کے جوشیلے لیڈر طلال چودھری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پرویز الٰہی کی آمد پر دھمال ڈالا کرتے تھے۔ اب اس کارکن نے کلمہ حق کہنے کا حق ادا کر دیا ہے۔ اس کو اعلیٰ مقام مل سکتا ہے مگر پہلے وہ اپنی ٹکوریں کرا لے۔

متعلقہ خبریں