سنیٹر نہال ہاشمی سے استعفیٰ لے لیا گیا۔

2017 ,جون 2



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک):سچ کہتے ہیں جوش جذبات میں بھی ہوش کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔ پڑھے لکھے لوگوں سے زیادہ کون اس بات کی اہمیت جانتا ہو گا۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ کیا عالم کیا جاہل سب ایک ہی رنگ میں رنگے نظر آتے ہیں۔ مجمع عام ہو سامعین وافر مقدار میں میسر ہوں۔ مائیک ہاتھ میں ہو۔ بولنے کا فن نہ سہی سلیقہ نہ سہی، طریقہ ہی آتا ہو تو پھر زبان کب قابو میں رہتی ہے۔ خاص طور پر جب ممدوح سے داد دہش ملنے کی امید ہو تو پھر وہ کچھ منہ سے نکل جاتا ہے جیسا نہال ہاشمی جی نے اپنے خطاب میں کہہ دیا۔ منہ سے نکلی کوٹھوں چڑھی۔ مخالفین نے ان کے بیان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کھل کر کہنا شروع کر دیا کہ یہ تو…

’’میں نئی بولدی میرے وچ میرا یار بولدا‘‘

والی بات ہے۔ اس پر بات کہاں سے نکلی اور کہاں جا پہنچی۔ نہال صاحب خود نڈھال ہو گئے۔ دل کے نہاں خانوں میں چھپی بات زبان پر لانے والوں کا انجام پہلے کب اچھا ہوا تھا جو اب ہو گا۔ اپوزیشن نے طوفان برپا کر دیا تو ہاشمی صاحب کی وزیراعظم ہائوس میں طلبی ہوئی۔ نہ وضاحتیں کام آئیں نہ بلاغتیں۔ سینیٹرشپ بھی گئی۔ عزتِ سادات بھی گئی۔ ہاشمی صاحب وزیراعظم ہائوس گئے تو سینیٹر تھے باہر نکلے تو سکندر کی طرح خالی ہاتھ تھے۔ مگر اپوزیشن والوں کا کلیجہ ابھی تک ٹھنڈا نہیں ہوا وہ انہیں عدالت میں گھسیٹ رہے ہیں۔ مگر اب ہارے ہوئے جواری کی جیب سے اور کیا نکل پائے گا۔

متعلقہ خبریں