کترنے کے لئے لگی ہیں قینچیاں دیوار پر

2017 ,جون 9



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): یہ جو وقتی جوش چڑھتا ہے، باسی کڑی میں ابال آتا ہے یہ پانی کے بلبلے کی طرح ہوتا ہے۔ اس لئے سیانے کہتے ہیں خوشی ہو یا غمی غصہ ہو یا محبت اپنی زبان قابو میں رکھنی چاہئے نہ زیادہ کڑوا بنیں نہ زیادہ میٹھا۔ دونوں صورتوں میں نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں تو یہ نقصان کچھ زیادہ ہی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہاں تو ہر سمت ”پر کترنے کے لئے لگی ہیں قینچیاں دیوار پر“
نہال ہاشمی صاحب پڑھے لکھے خاصے معقول انسان سے یہ امید کم ہی ہوتی ہے کہ وہ کبھی یا کہیں کسی نجی یا عام تقریب میں اچانک فکر و تدبر سے عاری ہو کر یکدم بلاول زرداری جیسی رومن اردو والی زبان بولنے لگیں۔ یا شیخ رشید جیسی بے نقطہ بیان بازی کرکے سامعین کا دل بہلانے یا بڑھانے کی کوشش کریں۔ شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے میں نقصان شاہ پرستوں کا ہی ہوتا ہے۔ نہال ہاشمی نے اب معلوم نہیں کس کی شہہ پر یہ شہہ پرستی کا نمونہ بیان داغا تھا۔ مگر جواب میں عدالت اور اپوزیشن نے ان کو جس طرح آڑے ہاتھ لیا ہے اس کے بعد انہیں باعزت طریقہ سے سینٹ سے مستعفی ہونے کا حکم ملا۔ وہ تیار بھی ہوئے مگر اب پتہ نہیں کیوں انہوں نے سینٹ کے چیئرمین سے استعفیٰ منظور نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ گویا یہ کہانی ابھی کچھ دن اور چلے گی اور یوں....
”خلقت شہر تو سننے کو فسانے مانگے“

متعلقہ خبریں