سائیں کا جہاں اور ہے شاہ جی کا جہاں اور

2017 ,جون 17



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): مراد علی صاحب کی یہ دل کی مراد ہے یا انکی زبان پھسل گئی۔ جب امجد صابری کو کراچی میں قتل کیا گیا تو اس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ سائیں قائم علی شاہ صاحب نے امجد صابری کے بجائے جنید جمشید کے قتل پر افسوس کا اظہار کرڈالا حالانکہ جنید جمشید اس وقت بقید حیات تھے۔ لیکن سائیں صاحب کے تعزیتی الفاظ ابھی ہوا میں تحلیل بھی نہیں ہوئے تھے کہ جنید جمشید چل بسے۔ انکے ”سائیں“ (اللہ والے) ہونے میں کوئی شک نہیں۔ انہوں نے جتنا عرصہ حکومت کی‘ صاف ستھری کی۔ اپنے دور میں وہ کسی سے تنگ تھے‘ نہ کوئی ان سے تنگ تھا۔ انہوں نے کسی کی بات مانی‘ نہ کسی نے انکی ‘ بہرحال حکومت چلتی رہی۔ ہمیں توانکی صاف ستھری حکومت کی صرف ایک وجہ ”نیند“ نظر آتی ہے۔موصوف جس اجلاس‘ کانفرنس‘ سیمینار میں جاتے‘ لمبی تان کر سو جاتے جبکہ مراد علی شاہ صاحب تو دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کے ساتھ امور حکومت چلا رہے ہیں تو وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ سندھ اسمبلی قبل ازوقت تحلیل ہو جائےگی۔ اگر وہ ہوش و حواس کے ساتھ یہ بات کہہ رہے ہیں تو پھر انہیں اپنی اداﺅں پر غور کرنا چاہیے۔ بے شک قائم علی صاحب اور انکے نام میں ”شاہ“ مشترک ہے ‘ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ خود کو بھی بڑے ”شاہ“ صاحب سمجھ بیٹھیں کیونکہ....ع

”سائیں“ کا جہاں اور ہے شاہ جی کا جہاں اور

متعلقہ خبریں