بھٹو کے دیوانے اب عمران خان کے پروانے

2017 ,جون 9



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): ایک طرف پتنگ کٹنے والے یہ جلی کٹی سنا رہے ہیں تو دوسری طرف پینگیں لوٹنے والے خان صاحب فرما رہے ہیں کہ ہم پرانی پیپلز پارٹی سے مل کر نیا پاکستان بنائیں گے۔ بلاول صاحب آجکل لاہور آئے ہوئے ہیں جہاں وہ کارکنوں سے مل رہے ہیں خدا جانے اب انہیں اپنے اردگرد صرف قمر زمان کائرہ کو دیکھ کر کیسا لگتا ہو گا۔ باقی سب لاہور والے اڑ چکے پنجرہ خالی رہ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہاں وہ وقت جب پیپلز پارٹی کا اجلاس ہو تو رہنما خواہ بھٹو ہوں یا بینظیر اپنے پرجوش جیالے کارکنوں کے نرغے میں گم ہو کر رہ جاتے تھے۔ مگر انکے ماتھے پر شکن تک نہیں آتی تھی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہی ان کی طاقت ہیں۔ اب یہ حال بھی گزشتہ روز دیکھا گیا کہ بلاول صاحب خود فرداً فرداً اردگرد بچ رہ جانے والے چند گنے چنے لوگوں سے ہاتھ ملاتے رہے۔ کہاں کہ لوگ ٹوٹ پڑتے تھے کہاں کہ ہاتھ ملانے کو ترستے ہیں ہاتھ۔ پیپلز پارٹی کو اتنا نقصان مسلم لیگ (ن) نے نہیں پہنچایا جتنا تحریک انصاف پہنچا رہی ہے۔ کبھی اس بارے میں غور کیا ہے۔ پارٹی قائدین نے جو صرف سندھ کو ہی منزل مراد سمجھ بیٹھے ہیں کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ بلاول صاحب اپنے دورہ لاہور میں پنجاب میں پارٹی کی مٹتی ہوئی نشانیوں کو ہی بچا لیں۔ مگر شاید ان کے اندر بھٹو خاندان کی وراثت بچانے کا وہ جذبہ نہیں جو بھٹوز سے محبت کرنے والوں میں ہنوز باقی ہے۔ اس کا فائدہ عمران خان اٹھا رہے ہیں۔ لوگوں کو ان کے اندر بھی بھٹو والا جارحانہ انداز پسند آ رہا ہے۔ شاید اسی لئے بھٹو کے دیوانے اب عمران خان کے پروانے بن کر انکے اردگرد رقصاں ہیں۔

 

متعلقہ خبریں