فاٹا اصلاحات پر بحث کے دوران قومی اسمبلی میں گدھے اور ڈیزل کا تذکرہ

2017 ,مئی 17



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): اب قومی اسمبلی میں بھی گدھے اور ڈیزل کے چرچے پہنچ گئے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ہاں سلجھانے کی بجائے معاملہ الجھانے والے زیادہ بااثر ہیں۔ بات ہو رہی تھی فاٹا اصلاحات کی۔ فاٹا کی خیبر پی کے میں شمولیت کے مسئلے پر جے یو آئی والے خاصے جُز بُز ہورہے ہیں۔ اس علاقے کو علیحدہ صوبے کا درجہ دینا چاہتے ہیں۔ خیبر پی کے کی جماعتیں اور فاٹا کے ارکان اسمبلی اسے خیبر پی کے میں ضم کرنے کے حق میں ہیں۔ اب اس معاملے میں قومی اسمبلی میں نوک جھونک کچھ زیادہ ہی تیز ہو گئی۔ اسی گرما گرمی میں مولانا فضل الرحمن نے اس اہم معاملے کو گدھوں کے کاروبار سے جوڑ دیا۔ بس پھر کیا تھا۔ فریق مخالف میں سے کسی نے فوراً جوابی وار کیا اور مولانا کو یاد دلایا کہ یہ معاملہ ڈیزل کا کاروبار بھی نہیں ہے۔ یوں قومی اسمبلی میں گدھا اور ڈیزل باہمی دست و گریباں نظر آئے۔ کاروبار دونوں ہی خاصے منافع بخش ہیں۔ ڈیزل تو عرصہ دراز سے ہماری سیاست میں ایک منفعت بخش کاروبار کی شکل میں پنپ رہا ہے۔ گدھوں کو البتہ ابھی حال ہی میں عروج ملا۔ آج حالت یہ ہے کہ ہمارے سب سے بڑے ایوان میں بھی ان دونوں کی بازگشت سنائی دی ہے۔ اب جس کا جی چاہے یہاں گدھے دوڑائے یا ڈیزل پھیلائے‘ بس یہ دھیان رہے کہ ایوان میں ضرورت سے کچھ زیادہ ہی گندگی نہ پھیلے، پھر اس کو سمیٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ویسے بھی تمام ارکان اسمبلی ایک دوسرے کے قد کاٹھ اور ذات پات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اس لئے فی الحال تو....

پردے میں رہنے دو پردہ نہ اٹھاﺅ

پردہ جو اٹھ گیا تو بھید کھل جائے گا

بہتر یہی ہے کہ چپ ہی رہا جائے اور بھرم رہ جائے۔

متعلقہ خبریں