لڑکیوں کے شانہ بشانہ برابری کی سطح پر لڑکے بھی براجمان

2017 ,جولائی 27



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): طالب علموں کی زندگی کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا معرکہ یہ میٹرک کا امتحان ہے۔ اس میں ساری محنت اساتذہ اور طالب علموں کی ہوتی ہے۔ اچھے سکول اور استاد ہوں تو نالائق قسم کے طالب علم بھی اچھے نمبر لیں نہ لیں پاس ضرور ہو جاتے ہیں۔ 2017ء کے میٹرک کے امتحانات میں خاص بات یہ نظر آئی کہ اس بار نجی سکولوں کے ساتھ ساتھ سرکاری سکولوں کے طلبہ و طالبات بھی پوزیشن لیتے اور اچھے نمبروں سے پاس ہوتے نظر آئے‘ ورنہ نجی سکولوں نے تو لگتا تھا باقاعدہ گینگ بنایا ہوا ہے جو ہر قیمت پر سرکاری سکولوں کو ناکام بنانے پر تلے بیٹھے ہیں۔ کچھ حکومت پنجاب کی بھی سرکاری سکولوں پر نظر کرم ہوئی ان پر توجہ دی جانے لگی۔ سرکاری اساتذہ کو بھی سیاست کی بجائے تعلیم پر توجہ دینے کے احکامات ملے۔ ہر سکول کے سربراہ کو اچھے رزلٹ کی ذمہ داری سونپی گئی۔ جس کا یہ اچھا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ عرصہ بعد بڑے پیمانے پر اعلیٰ پوزیشنوں پر لڑکیوں کے شانہ بشانہ برابری کی سطح پر لڑکے بھی براجمان نظر آئے۔ اس طرح تعلیم میں کم از کم صنفی عدم مساوات کا خاتمہ تو ممکن ہوا ہے۔ وہ تمام لڑکے اور لڑکیاں مبارکباد کے مستحق ہیں جو اعلیٰ نمبروں سے کامیاب ہوئے۔ باقی سب بھی مزید محنت کر کے اگلے امتحانوں میں اعلیٰ نمبر لے سکتے ہیں۔ فیل ہو جانے والے دل چھوٹا نہ کریں ’’گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں‘‘ والی بات ذہن نشین کر لیں۔ افسوس اس بات پر ہے کہ ایک طالب علم نے نمبر کم آنے پر اور ایک طالبہ نے ایک پرچے میں فیل ہونے پر خودکشی کر لی۔ یہ نہایت افسوسناک ہے۔ زندگی میں کبھی نقصان ہو تو اس کا مطلب یہ کب ہے کہ زندگی کا ہی خاتمہ کرلیاجائے۔ زندگی میں ناکامی اور کامیابی ہوتی رہتی ہے۔ ناکامی کا مطلب ہار نہیں ہوتا۔ کوشش کر کے اسے کامیابی میں بدلنا ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں