آئل ٹینکرز چلتے پھرتے بم ہیں جو ذرا سی احتیاط سے پھٹ جاتے ہیں

2017 ,جولائی 27



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): سانحہ شرقپور کے بعد جب حکومت نے آنکھیں کھولیں اور اوگرا کو بھی خواب خرگوش سے بیدار کیا تو اچانک ساری سرکاری مشینری کو یاد آیا کہ آئل ٹینکروں کے معاملے میں گڑبڑ ہے۔ وہ گڑبڑ کیا ہے‘ سب کو معلوم ہے۔ ناقص پرانے خستہ گھٹیا کوالٹی کے میٹریل سے تیار آئل ٹینکروں کو پٹرول لانے لے جانے کی اجازت کون دیتا ہے‘ فٹنس سرٹیفکیٹ کون جاری کرتا ہے۔ اوگرا والے ان خستہ حال آئل ٹینکروں کو سڑکوں پر آنے کی اجازت کیوں دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ پٹرول چوری کرنے والا مافیا بھی عوام کی جان کا دشمن بنا ہوا ہے۔ کم مقدار میں پٹرول بھر کر اسے پورا دکھایا جاتا ہے۔ پھر یہ لے جانے والے بوسیدہ کھٹارا ٹینکر نہایت مہارت کے ساتھ سڑکوں پر الٹ جاتے ہیں جن میں بعدازاں آگ لگ جاتی ہے۔ یہ پراسرار وارداتیں عرصے سے ہو رہی تھیں۔

یہ تو سانحہ شرقپور نے بازی الٹ دی۔ غریبوں کا خون رنگ لایا اور یہ کرپٹ مافیا بے نقاب ہو گیا۔ جب ان لوگوں پر حفاظتی انتظامات بہتر بنانے ٹینکروں کی فٹنس یقینی بنانے کا دباؤ پڑا تو یہ بگڑ گئے۔ حالانکہ یہ ٹینکروں سے زیادہ عوام کی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ یہ ٹینکر گنجان آباد علاقوں سے گزرتے ہیں۔ یہ تو چلتا پھرتا بم ہیں جو ذرا سی بے احتیاطی سے پھٹ سکتے ہیں۔ عوام تو سدا کے مظلوم ہیں ذرا سے بوتل بھر پٹرول کے لئے جان جوکھم میں ڈالنے سے بھی باز نہیں آتے۔ اس کے باوجود آئل ٹینکر والوں نے ہڑتال کر دی۔ بس یہ سننا تھا کہ پٹرول کی قلت کے خوف سے لوگ یوں پٹرول پمپوں پر جا پہنچے جیسے وہاں زندگی بڑھانے کی دوا مل رہی ہے۔ لوگ بوتلوں میں پٹرول بھر بھر لے جانے لگے تاکہ اسے بلیک میں فروخت کریں۔ کچھ میڈیا والوں نے بھی گرما گرمی پیدا کر دی مگر شکر ہے جلد ہی اوگرا والوں اور آئل ٹینکر والوں میں مذاکرات کامیاب ہوئے اور پٹرول کی سپلائی بحال ہو گئی۔ اب بوتلوں میں تیل بھر بھر کر لے جانے والے اس سے آٹا گوندھیں یا غسل کریں یہ ان کا معاملہ ہے۔

متعلقہ خبریں