سینٹ میں اردو کو ’’پاکستانی‘‘ کہنے پر تکرار

2017 ,مئی 12



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): سینٹ میں ہونے والی اس تکرار سے لگتا ہے آج کل سینٹ میں کافی فراغت ہے۔ سنیٹرز کو مصروف تو رہنا ہی ہوتا ہے اس لئے کسی نے یہ نئی بحث چھیڑ دی یوں…

اگر ساز چھیڑا ترانے بنیں گے

ترانے بنے تو فسانے بنیں گے

والی بات ہو گئی۔ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے۔ اب پی پی پی سے تعلق رکھنے والے ایک دانشور سنیٹر نے یہ نیا فلسفہ چھیڑا ہے کہ اسے اردو کی بجائے پاکستانی کا نام دیا جائے۔ جس طرح ترک کی ترکی۔ چین کی چینی۔ عرب کی عربی۔ ہند کی ہندی۔ روس کی قومی زبان روسی کہلاتی ہے۔ اس طرح پاکستان کی قومی زبان کو پاکستانی کہا جائے۔ اس پر پی پی کے ہی ایک سنیٹر نے ان کو بروقت جھاڑ دیا کہ قومی زبان کے معاملے کو نہ چھیڑا جائے۔ اردو کو اردو ہی رہنے دیا جائے۔ یوں معاملہ چونکہ اپنے گھر کا تھا اس لئے رفع دفع ہو گیا۔ ورنہ خطرہ تھا کہ یہاں بھی ایک بار پھر اردو کے نام پر نیا محاذ کھل جاتا۔ شکر ہے اردو کی جان بخشی ہو گئی جو بیچاری پہلے ہی قومی زبان ہونے کے باوجود ابھی تک سرکاری دفتری زبان بننے سے محروم ہے۔ اب اس کی شناخت پر بھی شور ہونے لگا۔ کئی حضرات تو تمام علاقائی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینے پر بضد تھے۔ مگر بڑی زبانوں پنجابی، سندھی، پشتو اور بلوچی کو صوبائی زبانوں کا درجہ دے کر ان کی بھی زبان بندی کر دی گئی اور ان کے ساتھ دوسروں کی بھی تسلی ہو گئی اس طرح سینٹ میں زبانوں کے مسئلہ پر خانہ جنگی کا خطرہ ٹل گیا۔

متعلقہ خبریں