بھارت کا نیا پینترا۔ پاکستانیوں کیلئے میڈیکل ویزا سرتاج عزیز کے خط سے مشروط

2017 ,مئی 12



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): لَو کر لو گَل۔ یہ تو ویزا نہ دینے والی بات ہوئی۔ جب تک سانپ کے کاٹے کا علاج عراق سے آئے گا تب تک وہ ڈسا ہوا شخص بھلا کہاں بچے گا۔ یہی مثال بھارت جانے والے مریضوں کو سرتاج عزیز صاحب کے خط سے مشروط کرکے دہرائی گئی ہے۔ ہمارے ہاں توعام این او سی لیٹر لینے کے لئے منتیں ترلے کرنے پڑتے ہیں۔ ویزا لگوانے کے لئے اسلام آباد کے سخت رولز والے علاقوں میں خجل خوار ہونا پڑتا ہے۔ تب کہیں جا کر نہایت کٹھن مرحلے طے کرکے بھارتی سفارتخانے کی لمبی لائنوں میں لگ کر دھوپ، مٹی، سردی، گرمی اور بارش سے لڑتے ہوئے صبح تا شام تک اذیت سہنا ہوتی ہے۔ پھر بھی بھارتی سفارتخانے والوں کی مرضی ویزا جاری کریں یا نہ کریں۔ مریضوں کے لئے پہلے ہی یہ سب مراحل جاں گسل ہوتے ہیں۔ اب انہیں وزارت خارجہ کے جنجال میں ڈال دیا گیا ہے۔ کس کے پاس اتنی طاقت اور ہمت ہو گی کہ وہ وہاں سے جا کر خط لکھوا لائے۔ پہلے ہی بیمار کی زندگی مشکل ہوتی ہے اب اسے بھارتی شرائط نے مشکل تر بنا دیا ہے۔ ویسے سوچنے کی بات ہے کیا ہمارے ہسپتال اور ڈاکٹر ان امراض کا علاج نہیں کر سکتے جن کے علاج کے لئے یہ بیمار پاکستانی بھاگ بھاگ کر بھارت جاتے ہیں۔ حکومت اور ڈاکٹر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غور کریں اور ایسے مریضوں کے کم خرچ علاج و آپریشن کا بندوبست کریں تو کون ہے جو بھارت جا کر علاج کروائے گا۔ ہمارے ہاں اچھے ڈاکٹروں کی کمی نہیں بس انسانیت کی کمی ہے۔ اگر ڈاکٹرز اپنی فیس کم کر لیں تو کسی کو وزارت خارجہ سے لیٹر لینے کی ضرورت نہ پڑے۔

متعلقہ خبریں