پنجاب میں سرکاری سکولوں کو خوبصورت بنانے کا پروگرام

2017 ,مئی 19



لاہور(مانیٹڑنگ ڈیسک): ویسے بھی موسم گرما کی چھٹیاں شروع ہو رہی ہیں۔ اگر ان چھٹیوں کے دوران حکومت نے واقعی پروگرام کے مطابق سرکاری سکولوں کی حالت بہتر بنا دی‘ وہاں بنیادی سہولتیں فراہم کر دیں تو بچے جب چھٹیوں کے بعد سکول واپس آئیں گے تو حیران رہ جائیں گے۔ اپنے سکولوں کی کایا کلپ دیکھ کر انہیں خوشی ہو گی۔ کیونکہ ہمارے ہاں نجی سکولز تو چلتے ہی صرف ظاہری نمود و نمائش پر ہیں۔ خوبصورت بلڈنگیں دیکھ کر اندر کی حالت کوئی نہیں دیکھتا۔ یوں نجی سکول مافیا کے ہاتھوں والدین لٹتے ہیں۔ اب اگر سرکاری بھوت بنگلہ بنے سکولوں کو بھی ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل سٹار جیسا بنا دیا جائے تو والدین اس طرف بھی متوجہ ہو سکتے ہیں۔ یہ اچھی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ حکومت لینڈ مافیا کو بھی کنٹرول کرے جو ان سرکاری سکولوں کی اراضی پر قبضہ جمائے بیٹھا ہے اور ان سکولوں کو بھی واگزار کرائے جہاں وڈیرے اور چودھری جانور باندھتے ہیں یا انہیں چلنے ہی نہیں دیتے کہ کہیں کل کو یہاں سے پڑھے لکھے بچے ان کی چودھراہٹ ماننے سے انکار نہ کر دیں۔ شاہدرہ میں کسی سرکاری سکول کی اراضی جو ایک نیک دل ہندو نے قیام پاکستان سے قبل عطیہ کی تھی اس رحم دل مسلمانوں نے قبضہ کرکے دکانیں بنائیں اور اب جعلی کاغذات سے باقی اراضی بھی ہڑپ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ تو مشتے از نمونہ ہے ورنہ ایسے ہزاروں نہیں تو سینکڑوں سکول ہیں جن کی یہی کہانی ہے جن کو مافیا کی دست برد سے بچانا حکومت کا کام ہے۔

متعلقہ خبریں