ماﺅزے تُنگ اور اس کے فیصلے

2020 ,مارچ 19



چین میں ماﺅ نے ذخیرہ اندوزوں کو پھانسیاں دیدیں۔نشئی سمندر بُرد کر دئیے اور پولیس کے بڑے افسروں کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر دیا۔ ماﺅ کو بتایا گیا"جناب ان میں اچھے لوگ بھی ہیں" ماﺅزے تُنگ نے کہا" خوب! ایسے لوگوں کی شاندار یادگاریں بنا دی جائیں"۔ہمیں اپنے "چن ماہیوں" کو ایسے کسی بھی ہولناک انجام سے دوچار نہیں کرنا۔ اچھے کردار والے کالی بھیڑوں کی خود نشاندہی کر کے نسلوں کے مستقبل کو روشن بناسکتے ہیں مبادا دوسروں کے کردہ گناہوں پر خاموش رہنے کی پاداش میں ناکردہ گناہوں کے عذاب کا شکار ہو جائیں۔ ماﺅ کے تمام فیصلوں کو مثالی نہیں مانا جا سکتاہے۔ ان کو بتایا گیا کہ چڑیاں اناج کا اجاڑا کرتی ہیں۔ ایک ”چڑی“ اڑھائی کلو اناج سالانہ کھاتی ہے۔ ماﺅ نے چڑی مار مہم شروع کر دی آخری چڑیا کے مرنے سے پہلے قحط پڑ گیا۔ فصلیں تباہ ہونے لگیں کیونکہ جن کیڑے مکوڑوں کو چڑیاں کھا جاتی ہیں ، ان کی نسلیں بڑھ گئیں جس سے فصلیں برباد ہوئیں اور قحط پڑ گیا جو پچاس کی دہائی سے شروع ہو کر 60 میں بھی چلا اس میں 4 کروڑ چینی مارے گئے تھے۔

متعلقہ خبریں