پاگل ہو کیا؟؟؟

2017 ,اکتوبر 18

بنتِ ہوا

بنتِ ہوا

تہذیب

bintehawa727@gmail.com



میں اپنے خیال میں گم سڑک کے کنارے کنارے چل رہی تهی ،کہ
اچانک کوئی چیز آکر میرے پاوں سے ٹکرائی ،ٹهٹهک کر رکی ،اور جهک کر 
دیکها تو کیلے کا چهلکا تها ،
جدهر سے پهینکا گیا تها ،ادهر نگاہ کی ،تو سڑک کے دوسرے کنارے 
پر ،وہ اپنی پوری آنکهیں کهولے ،تالیاں بجا بجا کر زور سے ہنس رہی تهی .
سخت غصہ آیا ،اس کے قریب جا کر ،جو جو کہه سکتی تهی ،سب کہه دیا .
لیکن اس پر کوئی اثر نہ ہوا ،وہ بدستور یونہی ہنستی رہی 
پآگل ہو کیا ؟ میں نے جهنجهلا کر پوچها ، تو اس سے تهوڑے فاصلے پر بیٹها 
ایک شخص بولا ،
ہاں ،پاگل ہی ہے ، تم جو بهی کہو گی ،اس کے جواب میں صرف ہنسے گی ،کچهہ بولے گی نہیں ،
اگر میرا پاوں چهلکے پر آجاتا ،اور میں پهسل کر گر پڑتی تو ؟ میں تلملا کر بولی ،
اگر اتنا سمجهتی ،تو چهلکا پهینکتی ہی کیوں ، سنو ،وہ بولا 
دو ماہ پہلے ،اسی جگہ بیٹهہ کر بچوں کے کهلونے بیچا کرتی تهی ،
اس کے ساتهہ ،اس کا پیارا سا معصوم بچہ ہوتا تها ،کبهی اس سے کهیلتی ،
کبهی باتیں کرتی اور کبهی گود میں لے کر اسے سلا دیتی ،بہت خوش تهی اس کے ساتهہ ،
ایک دن اسے گود میں لئے بیٹهی تهی ،سامنے سڑک کے اس پار ایک شخص کهڑا کیلے کها رہا تها .
بچہ ضد کرنے لگا کہ میں بهی کیلا کهاوں گا ، 
اس نے ٹالنے کی بہت کوشش کی ،لیکن بچہ تها ،نہ مانا ،اس شخص نے دیکها تو دور سے 
ایک کیلا اس کی طرف اچهال دیا ،لیکن وہ یہاں تک پہنچنے کی بجائے ،سڑک کے درمیان ہی گر گیا .
بچہ کیلا لینے کے لئے بهاگا اور سامنے سے آتی ہوئی تیز رفتار گاڑی کے نیچے آکر کچلا گیا ، 
مارنے والا رکا نہیں ،اسی رفتار سے گاڑی چلاتا بهاگ نکلا .
بس اسی دن سے اس کی یہ حالت ہے . روئی ،نہ چلائی ،نہ احتجاج کیا صدمے نے اسے بے حس کر دیا 
،اب کوڑے کے ڈهیر سے کیلے کے چهلکے جمع کرتی ہے ،اور آنے جانے والوں کے پاوں میں پهینک کر اپنی مامتا کو تسکین پہنچاتی ہے

میں بے حس کهڑی اس کی باتیں سن رہی تهی .وہ پهر بولا .
جانتی ہو کیوں ؟ اسلئے کہ 
اس کے پاس گاڑی نہیں کہ کسی کو کچل کر اپنا انتقام لے سکے 
اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں کہ کسی کے خلاف رپورٹ درج کروا سکے ،
اور پهر اس کے پاس کسی بڑے آدمی کی سفارش بهی نہیں جس کی بنا پر یہ مقدمہ لڑ سکے ،
کوئی وسیلہ ،کوئی تعلق ،کوئی رابطہ ایسا نہی جو اس کے دکهہ کا مداوا کر سکے 
اب تم ہی بتاو باجی ! یہ کیا کرے ؟؟ 
اس نے دکھ سے بهری لمبی سانس لی اور دیوار سے ٹیک لگا کر بولا .
کبهی غریبوں کے دلوں میں جهانک کر دیکهو تو پتہ چلے کہ ان کے دکھ کیسے ہوتے ہیں .۔۔ لیکن ایسا بھی بھلا ممکن ہے۔۔ کسی کا کیا فرق پڑتا ہے غریب کے زندہ ہونے پر یا مر جانے پر دنیا والوں کے کام تو چلتے رہتے ہیں۔۔

نوٹ:اگر آپ بھی اپنا کوئی کالم،فیچر یا افسانہ ہماری ویب سائٹ پر چلوانا چاہتے ہیں تو اس ای ڈی پر میل کریں۔ای میل آئی ڈی ہے۔۔۔۔

bintehawa727@gmail.com

ہم آپ کے تعاون کے شکر گزار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں