میری پہلی محبت پاک فوج

2022 ,جون 14



تحریر: مطلوب وڑائچ

پاکستانی عوام کی اپنی فوج سے ہمیشہ لازوال ،والہانہ اور غیر مشروط محبت رہی ہے۔ میں نے اپنی زندگی کا طویل حصہ مغربی ممالک میں گزارا ہے۔ دیارِ غیر میں جہاں عزیز رشتہ کے ساتھ ساتھ ہم وطنوں کی یاد آتی ہے وہیں پاک فوج کی قوم و ملک کے لیے قربانیاں بھی یاد آتی ہیں۔ یہ افواج کے سپوتوں کی سرحدوں پر شہادتیں ہوں یا ملک کے اندر دہشتگردوں کے ساتھ نبردآزما ہونے کے دوران جان کی بازی ہار جائیں، یہ ہمارے دلوں کے قریب رہتے ہیں۔ 65ء کی جنگ میں افواج پاکستان نے قوم کے دل میں اعلیٰ مقام بنایا تھا۔ 71ء کی جنگ کی شکست اس میں کمی اور پستی نہ لا سکی۔ سانحہ مشرقی پاکستان پاک فوج کی وجہ سے رونما نہیں ہوا تھا۔ اس میں کچھ سازشی کردار ملوث تھے جو پاک فوج کی ہزیمت کا بھی باعث بنے تھے۔ پاک فوج سے عوام کی محبت اس کے رویوں سے جھلکتی ہے۔ 65ء کی جنگ کے بعد تو خصوصی طور پر اظہار برملا ہوتا نظر آتا ہے۔ بسوں، ٹرکوں اور عمارتوں پر پاک فوج کو سلام کے سلوگن کندہ ہوتے تھے۔ مجھے بچپن یاد ہے کہ فوجی قافلہ گزرتا تو ہم سڑک کے ساتھ کھیلتے ہوئے انہیں سلام کرتے۔ ان میں سے ایک بھی جوان جواب میں سلیوٹ کرتا تو ہمارا سینہ فخر اور خوشی سے پھول جاتا اور بے ساختہ پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد کے نعرے بلند ہونے لگتے۔ آج بھی بچے ایسا ہی کرتے ہیں اور کئی والدین تو بچوں کی فرمائش پر انہیں عیدوں پر فوجی یونیفارم سلوا کر دیتے ہیں۔

پاک فوج اپنی بہادری اور قوم و ملک کے لیے جذبہ شہادت اور بہترین مہارت کے باعث دشمنوں اور پاکستان میں موجود دشمنوں کے دل میں کانٹے کی طرح چبھتی ہے۔ ان کی طرف سے پاک فوج کو متنازعہ بنانے کی سازشوں کے جال بنے جاتے رہے ہیں۔ پاک فوج ایک سپاہی سے لے کر اعلیٰ عہدے کے کمانڈر تک کانام ہے۔ باقی اداروں کی طرح فوج میں بھی کالی بھیڑیں پائی جاتی ہیں۔ گذشتہ دنوں بریگیڈیئر راجہ رضوان، لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال ملک اور ایک سوال افسر وسیم اکرم کو سخت سزائیں دی گئیں۔ رضوان اور وسیم اکرم کو سزائے موت دی گئی ۔ان پر غداری کا الزام تھا۔منصور الحق کو جرمانے اور قید کی سزائیں دی گئی۔ راحیل شریف کے دور میں بھی کچھ بڑے افسروں کو سزا ہوئی۔ ایسے افسر پاک فوج کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ایوب خان، ضیاء الحق اور مشرف اقتدار میں آئے،یحییٰ خان بھی کچھ عرصہ صدر رہے ہیں۔ ان ادوار میں ملک میں ترقی ہوئی یا نہیں ہوئی اس بحث سے قطع نظر، ان جرنیلوں کے اقتدار میں آنے سے تاثر یہی بنتا ہے کہ فوج حکومت میں آتی رہی۔ کچھ لوگوں کو ان ادوار میں نوازا گیا کچھ پرجبر کیا گیا۔ جرنیلوں کا ساتھ دینے والے چند درجن افسر ہوں گے۔ان مثبت اقدامات کی بات کم منفی رویوں کی زیادہ بات کی جاتی ہے اور وہ لوگ جو فوج کے خلاف نفرت کے بیج بوتے ہیں وہ پاک فوج کو متنازعہ بنانے کے لیے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں مگر میرے جیسے لوگ پاک فوج جن کی پہلی محبت ہے وہ کسی پراپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوتے مگر ہر کسی کی ایک جیسی سوچ اور آئی کیو نہیں ہوتا۔ پاک فوج کے خلاف پراپیگنڈا کرنے والوں کو اکثر پاکستانی سنجیدہ نہیں لیتے۔ فوج اقتدار میں آتی رہی ہے اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی مگر سیاستدان بھی دودھ کے دھلے نہیں ہیں۔ ان میں سے کئی فوج کو اقتدار میں آنے کی دعوت دیتے ہیں اور کئی اس کے اقتدار کا حصہ بن جاتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر جنرل باجوہ کو ایک بہترین پروفیشنل سپاہی اور سالار سمجھتا ہوں مگر ان کی شخصیت کو رجیم چینج کو لے کر جس طرح متنازعہ بنایا گیا ہے یہ ان کی وردی پر لگے ایسے داغ ہیں جو کسی ڈٹرجنٹ سے بھی نہیں دھل سکتے۔ یقینا ان کی عزت فوج کی عزت ہے اور فوج کا وقار ان کا وقار ہے۔ جس کا ان سے زیادہ کسی اور کو ادراک اور احساس نہیں ہو سکتا۔ جہاں سمندر پار بیٹھ کر پاک افواج کے خلاف زہر افشانی دیکھنے کومل رہی ہے اس پر ہم پاکستانی سر نہیں اٹھا سکتے ۔ اس سب کو مخالفین کا کیا دھرا کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ معاملات جس حد تک بگڑ چکے ہیں اوورسیز پاکستانیوں میں رائے پائی جاتی ہے کہ جناب نومبر تک انتظار کرنے کی بجائے فوج پر احسان کرتے ہوئے ایک وقار کے ساتھ گھر تشریف لے جائیں تاکہ ایک بالکل غیرمتنازعہ جرنیل معاملات کو آگے لے جائے۔

متعلقہ خبریں