بیس جمع بیس پچاس روٹیاں ذہنیت کے وزیر کا بدترین دشمن کیساتھ تجارت میں خسارے کا اعتراف مگر جاری رکھنے پر بضد

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع دسمبر 24, 2016 | 04:42 صبح

اسلام آباد (مانیٹرنگ) وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ تجارت کا توازن اس وقت بھارت کے حق میں ہے‘ کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کے معاملے پر فی الحال بھارت کے ساتھ تجارت کو روکنا ہمارے مفاد میں نہیں ہوگا۔ سینٹ میں سلیم مانڈوی والا کے توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں وزیر تجارت نے کہا کہ بعض حلقوں کا مطالبہ ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت ختم کی جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری مسلح افواج بھارت کی طرف سے ایل او سی کی خلاف ورزی کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں۔ بھارت

اور پاکستان کے درمیان تجارت 2.083 ارب ڈالر ہے۔ بھارت کے ساتھ تجارت بند کرنے سے بھارت کی معیشت پر کوثی اثر نہیں پڑے گا۔ گزشتہ سال بھارت کی پاکستان کے لئے برآمدات ایک ارب 78 کروڑ ڈالر تھیں جوکہ اس کی دنیا کے لئے مجموعی برآمدات کا 0.8 فیصد ہیں۔ ہم بھارت سے خام مال درآمد کرتے ہیں باہمی تجارت پر پابندی سے ہماری کچھ صنعتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ پاکستان کی بھارت کے لئے گزشتہ سال برآمدات سالانہ 3 ارب 30 کروڑ ڈالر رہیں جو کہ ہماری مجموعی برآمدات کا 14 فیصد ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو بھارت کے ساتھ تجارت روکنے پر غور کیا جائے گا۔ تاہم اس وقت باہمی تجارت روکنا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔