حاکم،رعایا اور اعتماد

2022 ,جولائی 16



 عوام اور حکمرانوں کے مابین رابطے بہت سے معاملات کی سمت کو درست رکھتے ہیں، رابطوں کے حوالے سے جمہوریت کو بہتر نظام مانا جاتا ہے، بادشاہت اور آمریت میں بھی ایسے رابطے ناگزیر ہوتے ہیں  جہاں سے رابطے محدود ہونے یا ٹوٹنے لگیں تو ایک گھٹن اور بد اعتمادی کی فضا بننا شروع ہو جاتی ہے جس سے عوام خود کو حاصل آزادی یا حقوق کے تحت جو ممکن ہے وہ کر تے ہیں۔ یہ تجربات ہمارے ہاں بھی ہوتے رہے ہیں، ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور مشرف کی جرنیلی حکومتیں بالآخرعوام کا اعتماد کھو بیٹھی تھیں، کچھ ایسا  جمہوری حکمرانوں کے ساتھ بھی ہو چکا ہے۔ عوام کو ساتھ لے کر چلنے کی وہاں ضرورت نہیں ہوتی جہاں جبر کی انتہاء ہو، ظلم کا دور دورہ ہو مگر ایسے ممالک کم کم ہی ہیں،مسلم ممالک میں کہیں بادشاہت، کہیں خلافت ہے اور کہیں ملوکیت مگر رعایا کا خیال رکھا جاتا ہے۔ دور دراز پہاڑی علاقوں،ریگزاروں اور جزیروں میں جہاں کہیں ایک دو گھر بھی ہیں وہاں تک بھی سڑک بنی ہے، بجلی اور پانی پہنچا دیا گیا ہے جبکہ صحت اور تعلیم کی مفت سہولت دستیاب ہے۔  اعتماد کی ایسی فضا میں رعایا حکمرانوں سے مطمئن اور حکمرانوں کو رعایا کاتعاون حاصل رہتا ہے لہٰذا کوئی گھٹن نہیں،کوئی تحریک نہیں، کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ملک بھی گھر کی طرح ہوتے ہیں گھر کے بڑے کو اہم فیصلوں میں  دوسروں کو اعتماد میں لے کر چلنا ہوتا ہے جس گھر میں ایسا ہوتا ہے وہاں کئی  خاندان ایک چار دیواری میں خوشی سے زندگی بسر کرتے ہیں لیکن اگر اعتماد نہ ہو تو چار افراد بھی مطمئن اور خوشحال نہیں رہ سکتے۔

سری لنکا میں آج صورت حال اتنی مخدوش ہو چکی ہے کہ یہ ریاست ایک عبرت بنی نظر آرہی ہے، وہاں جوکچھ ہوا بدترین حالات کا نکتہ عروج ہے، ایک ایسا اعلان، اقدام یاپالیسی سامنے آئی  جسے جہالت  اور حماقت بھی کہا جا سکتا ہے مگر یہ ریاست کی بے بسی کا بھی اظہار ہے۔ محکمہ صحت کی طرف سے عوام کو خبردار کیا گیا  کہ وہ بیمار نہ پڑیں یا حادثوں کا شکار نہ ہوں (جیسے یہ ان کے بس میں ہو) کیونکہ معاشی بحران نے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو مفلوج کر دیاہے۔

سری لنکا میں معیشت کیا ڈوبی، اس ریلے میں بہت کچھ خس و خاشاک بن گیا، اس حوالے سے ایک مختصرسی رپورٹ ملاحظہ کیجئے،”سری لنکا میں جاری معاشی اور سیاسی بحران کے دوران ہونے والے مظاہروں کے بعد صدر گوٹابایا راج پکشے دو روز قبل 13جولائی کوعلیٰ الصبح  فوجی طیارے پر ملک سے فرار ہو گئے، سری لنکن فضائیہ نے ایک بیان میں کہاکہ آئین کے تحت اور حکومت کی درخواست پر سری لنکن فضائیہ نے مالدیپ جانے کے لیے صدر، ان کی اہلیہ اور دو محافظوں کو جہاز فراہم کیا،صدر راج پکشے نے مظاہرین کی جانب سے صدارتی محل اور وزیراعظم کی رہائش گاہ پر دھاوا بولے جانے اور سیاسی دباؤ کے بعد عہدہ چھوڑا تھا اور وہ مالدیپ سے کسی دوسرے ملک کا رخ کریں گے، دوسری جانب وزیراعظم رانیل وکرما سنگھے نے کہا کہ نئی حکومت بننے کے بعد وہ بھی سبکدوش ہو جائیں گے ملکی قیادت کی جانب سے استعفوں کے وعدے سے بھی سیاسی بحران کا خاتمہ نہیں ہوا اور مظاہرین نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ جاری رکھا ہوا ہے، کئی دنوں سے لوگ صدارتی محل میں اس طرح آتے جاتے ہیں گویا  یہ کوئی سیاحتی مقام ہو جہاں ان کی سوئمنگ پول میں نہانے، پرتعیّش کمروں کے بستروں پر لیٹنے اور صدر کی کرسی پر بیٹھ کر چائے پینے تک کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، ایک موقع پر لوگوں  نے وزیراعظم کی نجی رہائش گاہ کو نذر آتش بھی کر دیا گیاتھا۔کچھ لوگ پکسے کے فرار ہونے پر غم و غصے کا اظہار کررہے ہیں۔

 ان کا کہنا ہے کہ انہیں تو جیل میں ہونا چاہیے تھا چہ جائیکہ  وہ فرار ہوگئے،راج پکشے نے اس ملک کو تباہ کیا اور قومی دولت لوٹ لی، سیاحت پر انحصار کرنے والی سری لنکا کی معیشت کو کرونا وباء اور بیرون ملک مقیم سری لنکن شہریوں کی جانب سے ترسیلات زر میں کمی کی وجہ سے بری طرح نقصان پہنچا جبکہ کھادوں پر پابندی نے زراعت کی پیداوار کو نقصان پہنچایا“۔ 

صدر کو کیوں بھاگنا پڑا، وزیر اعظم کیوں رسوا ہو رہے ہیں، اس کی وجہ معیشت کی زبوں حالی تو ہے ہی، اس سے بھی بڑا سبب عوام اور حکمرانوں کے مابین رابطوں کا فقدان ہے جس نے عدم اعتماد کی  فضاء کو اس سطح پر پہنچا دیا۔اب حاکم اور رعایا کے درمیان اعتماد کو سمجھنے کے لیے ذراچین چلتے ہیں۔سر پر تاج سجانے کے بعد چینی بادشاہ نے اہل علم و دانش سے رائے طلب کی کہ وہ کس طرح رعایا کو خوش رکھ سکتا ہے تاکہ اس کے اقتدار کو دوام ملے،سب نے اتفاق سے عرض کیا کہ کنفیوشس ہی اس حوالے سے بہتر مشورہ دے سکتاہے کیونکہ کنفیوشس ایک خوددار دانشور تھا، اپنے اہل ا لرائے کے مشورے پر بادشاہ نے کنفیوشس کو دربار میں طلب کرنے کے بجائے خود اس کے پاس جاکر مدعا بیان کیا۔ کنفیوشس نے کہا کہ رعایا کی روٹی اور سکیورٹی کا خیال رکھیں اور ان کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچنے دیں، بادشاہ کا سوال تھا کہ اگر ان میں سے ایک کو چھوڑنا پڑے تو کس کو چھوڑا جائے۔ ناصح کا جواب تھا، روٹی۔ اگلا سوال تھا کہ سیکیورٹی اور کریڈیبلٹی میں سے مقدم کس کو رکھا جائے کنفیوشس نے کہا جب تک آپ کو عوام کا اعتماد حاصل ہے وہ اپنی حفاظت خود کرکے اور بھوکے رہ کر بھی آپ کی طاقت بنے رہیں گے، حالات جتنے بھی بدتر ہو جائیں رعایا کے سامنے سچ رکھا جائے تو اس کا حکمرانوں پر اعتماد قائم رہتا ہے۔

آج پاکستان معاشی عدم اعتماد کا شکار ہے۔ کچھ لوگ آج کی صورت حال کا موازنہ سری لنکا سے کر رہے ہیں۔سری لنکا اور پاکستان کی صورتِ حال میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پاکستان بھرپور وسائل اور بہترین مواقع کی سرزمین ہے، آج وطن عزیز میں سیاسی اختلافات، ذاتیات سے ہوتے ہوئے دشمنی کی حد تک چلے گئے ہیں اور یہ کوئی پہلی بار نہیں ہو رہا نوے کی دہائی ایک بھیانک حقیقت تھی مگر ملک محفوظ رہا۔ ارتقائی ترقی کو اُس دور میں بریک لگی نہ اب لگے گی،مسائل  ہیں تو وسائل بھی دستیاب ہیں۔ سیاسی اختلافات بے کنار ہو رہے ہیں تو پاکستان کے استحکام اور یکسانیت کی سوچ بھی موجود ہے۔حکومت جس کی بھی ہو عوام کے اعتماد کے حصول اور اسے برقرار رکھنے کے لیے حکمران طبقہ اپنی منجی تلے ڈانگ پھیرتارہے تو کوئی مسئلہ لاینحل نہیں رہ سکتا۔

متعلقہ خبریں