کبوتر اور ویاگرا کا استعمال

2016 ,دسمبر 14



اسلام آباد (شفق ڈیسک) کبوتر بازی برصغیر کا قدیم کھیل ہے جس کی تاریخ مغلیہ دور سے جاملتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 16ویں صدی کے مغل بادشاہ کبوتروں کے ذریعے میدان جنگ میں تعینات اپنے جرنیلوں کو پیغام بھیجا کرتے تھے جبکہ اس پرندے کو عشقیہ پیغام رسانی کیلئے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ 16 ویں صدی کے مغلیہ شہنشاہوں سے کبوتر بازی کے کھیل کا آغاز ہوا جو پاکستان کے متعدد علاقوں میں آج بھی مقبول ہے۔ برصغیر کے باقی حصوں میں آج بھی کبوتر بازی پرانے انداز میں ہی کی جاتی ہے، مگر پاکستانی کبوتر بازوں نے اپنے کبوتروں کی طاقت بڑھانے کیلئے انہیں ایک ایسی گولی کھلانی شروع کر دی ہے کہ جسے پہلے صرف مرد استعمال کیا کرتے تھے۔ اخبار لاس اینجلس ٹائم کی رپورٹ کیمطابق دن بھر پرواز کرنیوالے کبوتروں کو ناصرف خصوصی غذائیں کھلائی جاتی ہیں بلکہ انہیں جنسی طاقت کی گولیاں بھی کھلائی جا رہی ہیں۔ رپورٹ کیمطابق اس سلسلے میں جب جہلم سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور کبوتر باز سے بات کی گئی تو اس نے بتایا کہ اس کے کبوتر 10 سے 12 گھنٹے مسلسل پرواز کرتے ہیں اور اس دوران انہیں نہ ہی پیاس لگتی ہے اور نہ ہی وہ تھکتے ہیں۔ اس کبوتر باز کا کہنا تھا کہ کبوتروں کی غیر معمولی طاقت کا راز ان کی سپیشل خوراک اور ایک خاص دوا ہے۔ سپیشل خوراک چنے، باجرہ، بادام، الائچی اور جڑی بوٹیوں کو مکس کرکے بنائی جاتی ہے، جبکہ کبوتر کا سٹیمنا بڑھانے کیلئے اسے مردانہ جنسی طاقت کی گولی ویاگرا کھلائی جاتی ہے۔ یقیناًیہ حیرت کی بات ہے کہ انسانوں کیلئے تیار کی گئی طاقت کی دوا کبوتر بھی استعمال کررہے ہیں، لیکن یہ بیچارے کبوتروں کا اپنا فیصلہ نہیں، بلکہ انکے مالک انسان ہی ہیں جو انہیں 12 گھنٹے مسلسل اڑانے کیلئے ویاگرا جیسی گولی کھلانے سے بھی باز نہیں آئے۔

متعلقہ خبریں