شہزادے تلور کے شکار کے ساتھ لڑکیوں کا شکار بھی کرنے لگے

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع دسمبر 29, 2016 | 17:40 شام

خیبر پی کے (شفق ڈیسک) تلور پرندوں کے شکار کی آڑ میں قطری شہزادوں کی جانب سے پاکستانی لڑکیوں کے جنسی استحصال کا موضوع کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ پاکستانی نامہ نگار نے اپنی خصوصی رپورٹ میں لکھا کہ قطری شہزادے پاکستان میں تلور کے شکار کو صرف ایک بہانے کے طور پراستعمال کرتے ہیں اسکے پشت پردہ کچھ اور ہی کھیل چل رہا ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ تلور کا شکار قطری یا عرب شہزادوں کیلئے اتنا مہم کیوں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی لوگ بھی تلور میں بڑی دلچسپی رکھتے ہیں، یہ لوگ اس مقصد سے پاکستان کیوں نہیں آتے؟

در اصل مسئلہ یہ ہے کہ قطری شہزادوں کیلئے تلور کا گوشت کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا کہ وہ اتنا پیسہ خرچ کر کے اسکا شکار کریں۔ وہ اربوں روپے کیوں تلور کے شکار پر خرچ کرتے ہیں۔ تلور وہ پرندہ ہے جو سردی سے بچنے کیلئے پاکستان اور عراق کے صحرائی علاقوں کی جانب ہجرت کرتا ہے لیکن اس کے پیچھے پیچھے عرب شیوخ بھی پاکستان پہنچ جاتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ اس سفر میں انکے ساتھ انکی بیگمات نہیں ہوتیں لیکن انکے خیموں سے بلند ہوتی چیخیں کچھ اور ہی داستاں سناتی ہے۔ تلور کا گوشت جنسی خواہشات کو بڑھانے کی دوا کے طورپر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ تلور ان پرندوں میں ہے جن کی نسل خطرے کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ ہر سال سردی سے بچنے کیلئے وسطی ایشیاء سے ہجرت کرکے پاکستان اور عراق کے صحرائی ریتلے علاقوں کا رخ کرتے ہیں لیکن یہ معصوم پرندہ ان ریتلے علاقوں میں عرب یا قطری شیوخ کے شوق کے بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ تلور کے شکار پر پاکستان میں پابندی عائد ہے لیکن اسکے باوجود قطری شہزادے اس کا شکار کرتے ہیں۔ تلور پرندہ زیادہ تر پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور عرب ممالک میں پایا جاتا ہے۔ پاکستان کے مقامی افراد بھی اس نایاب پرندے کا شکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک بار میں بہاولپور کے دورے پر تھا اور میں نے اس پرندے کا شکار کیا۔ اس پرندے کا ذائقہ زیادہ اچھا نہیں جبکہ گجرانوالہ کے مقامی کھانے اس سے زیادہ لذیذ ہوتے ہیں۔ اسی بنیاد پر یہ سوال میرے ذہن میں ہمیشہ گردش کرتا رہا کہ اس ناچیز پرندے کے شکار کیلئے اتنے پیسے کیوں خرچ کئے جاتے ہیں۔ کیوں قطری شہزادے میڈیا کے دباؤ کو برداشت کرتے ہوئے پاکستان کا دورہ کرتے ہیں؟ کچھ عرصے پہلے مجھ پر یہ معمہ حل ہو گیا۔ یہ میرے زندگی سب سے تلخ ترین معمہ تھا جو میں نے حل کیا۔ اس سے پہلے میں نے قطری شہزادوں کی سکیورٹی پر مامور سکیورٹی ٹیم کے ایک اہلکار سے ملاقات کی جو اسلام آباد میں کام کی تلاش میں در در بھٹک رہا تھا۔ میں نے اس سے تعجب سے پوچھا کہ آپکی تنخواہ تو دو لاکھ روپے تھی پھر آپ کام کی تلاش میں کیوں ہیں؟ پاک فوج کے اس غیرت مند سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ میں فوجی ہوں، مجھے یہ تنخواہ پسند نہیں ہے۔ اس جواب سے میرے تعجب میں مزید اضافہ ہو گیا، میری تشنگی مزید بڑھی، انہوں نے کہا کہ میں سکیورٹی ٹیم میں شامل تھا، میں ائرپورٹ سے شکارگاہ تک قطری شہزادوں کیساتھ تھا، میں صبح سے شام تک ان کیساتھ رہا، مجھ سے زیادہ انکے سفر کی تفصیلات کسی کو بھی پتا نہیں ہے۔ شہزادے جب غروب کے وقت اپنے خیمے میں لوٹتے تھے، تھوڑا آرام کرتے تھے تاکہ گوشت بھن جائے اور دسترخوان پر لگا دیا جاتا اور پھر وہ بیٹھ کر تلور کا گوشت کھاتے اور پھر اپنے خیموں میں لوٹ جاتے تھے جہاں انکی رات رنگین کرنے کیلئے مقامی لڑکیاں پہنچائی جاتی تھی، افسوس کی بات یہ ہے کہ ان لڑکیوں کی عمریں 14 سال سے زیادہ نہیں ہوتی تھی، یہ حکومت اور مقامی افراد کی خیانت ہے، ملک سے غداری ہے۔ اس واقعے نے میرے ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا۔