خلا میں بیت الخلا کا مسئلہ کون حل کرے گا

2016 ,نومبر 30



 

واشنگٹن (شفق ڈیسک) زمین پر فطری حاجتوں کو ادا کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن خلا میں یہ کام بہت مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ بیوزنی میں جسمانی فضلے اور مائعات کو خارج کرنا قدرے مشکل ہوتا ہے۔ اسی لئے خلانورد خاص قسم کے پوتڑے (پیمپرز) پہنتے ہیں لیکن اس کا مسئلہ بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ اب ناسا نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی شخص یا ادارہ خلا میں انسانی فضلے کو جمع کرنے یا ٹھکانے لگانے کا بہترین طریقہ پیش کریگا اسکے قابلِ قبول منصوبے کیلئے 30 ہزار ڈالر (30 لاکھ پاکستانی روپے) کے برابر رقم پیش کی جائیگی۔ خلانورد بہت بھاری اور پیچیدہ سوٹ پہنے ہوتے ہیں اور وہ بار بار پیمپر نہیں بدل سکتے لیکن پیمپرز پہنے رہنے سے انفیکشن اور دیگر امراض کے شکار ہوسکتے ہیں۔ اسی لئے ناسا نے پوری دنیا سے مشورہ مانگا ہے کہ یہ مسئلہ کیسے حل کیا جائے۔ ناسا نے خلائی فضلے کا چیلنج کے نام سے ایک ویب پیج بھی بنایا ہے جہاں دنیا بھر کے ڈیزائنر خلانوردوں کے ڈائپر کے متبادل کوئی بھی نظام کا آئیڈیا پیش کرسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ اس کی آخری تاریخ 20 دسمبر ہے اور منتخب ہونے والے آئیڈیے کو 30 ہزار ڈالر کی رقم دی جائے گی۔ لیکن خلانوردوں کے فضلے کے حل کیلئے ناسا کی چند ہدایات ضرور یاد رکھیے۔ کسی نظام کی ڈیزائننگ سے پہلے خیال رہے کہ کبھی خلائی کیبن کا پریشر کم ہونے سے انسانوں کو سوٹ پہنے ہوئے طویل وقت گزارنا پڑتا ہے تو ایسا نظام پیش کیا جائے جس میں ہاتھ لگائے بغیر انسانی فضلہ 144 گھنٹے تک برقرار رہ سکے اور صرف پانچ منٹ میں خلائی سوٹ کا حصہ بن جائے۔ اس کے علاوہ اس کا کم وزن ہونا ضروری ہے کیونکہ خلائی سوٹ خود بہت بھاری ہوتا ہے۔ خلا میں بے وزنی ہوتی ہے جہاں ٹھوس اشیا بھی ادھر ادھر اڑتی رہتی ہے اور مائعات گول شکل اختیار کرکے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ناسا میں خلانورد رچرڈ ماسٹریشیو کہتے ہیں کہ خلائی سفر بہت آسان اور پرکشش نہیں ہوتا۔ خلانوردوں کو فلائٹ کے دوران بھی بیت الخلا جانا پڑتا ہے۔ اب انسانی فضلے کو کس طرح رکھا جائے کہ اس کے جراثیم سے انسان متاثر نہ ہوں اور وہ اچھی طرح سنبھالا جاسکے، ناسا اب دنیا کے ماہرین سے یہی پوچھنا چاہتا ہے رچرڈ نے بتایا۔ ناسا انسانی فضلہ چیلنج کی ویب سائٹ پر 20 دسمبر تک اپنے خیالات اور نظام کو بھیجا جاسکتا ہے جبکہ منتخب منصوبے کا حتمی اعلان جنوری کو کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں